ایران میں حکومت کی حمایت میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے

0 10,593

ایران میں دو روز سے جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دیکھتے ہوئے ایرانی عوامی کی اکثریت حکومت کے حق میں سڑکوں پر آ گئی۔

مقامی میڈیا کے مطابق حکومتی حامی تمام بڑے شہروں میں سامنے آئے ہیں جن میں مرکزی مقام تہران بھی شامل ہے۔ حامیوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خمینی کی معاشی اصلاحات کے ساتھ مضبوطی سے جمی رہے۔

عظیم مصلہ مسجد، تہران میں خمینی کی خصوصی کونسل کے ممبر محمود اراقی نے کہا کہ ایران مغرب سے معاشی جنگ میں تھا اور حسن روحانی کی حکومت کو خمینی کی "مزاحم معاشیات” پروگرام پورے عزم سے لاگو کرنا چاہیے۔

اسی طرح ملک کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں بھی حکومت کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ مشہد حکومت مخالف تحریک کا مرکز سمجھا جا رہا تھا۔

دوسری طرف ایرانی وزیر داخلہ عبد الرضا رحمانی نے عوام کو کہا ہے کہ ان غیر مجاز احتجاجی مظاہروں میں شرکت نہ کریں۔

جوان اخبار کے مطابق رحمانی نے کہا ہے : "ہماری سیکیورٹی فورسز اور عدلیہ نے ان مظاہروں سے نبٹنے کی مکمل کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان واقعات کو آگے بڑھنے سے روکا جائے”۔

امریکی دخل اندازی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہروں کے بعد ٹویٹ کی تھی کہ "ایرانی حکومت اپنی عوام کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ اس میں اظہار رائے کا حق بھی شامل ہے۔ اور دنیا دیکھ رہی ہے”۔

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ہیتھر نیورٹ کو ایران کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی پر کڑی تنقید کی ہے۔

روزہ مرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور حکومت کی بد انتظامی کے خلاف جمعرات کو ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا جو جلد ہی ملک بھر میں حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔

ایرانی طلباء نیوز ایجنسی نے مشہد کے گورنر محمد رحیم نوروزین کی خبر شائع کی ہے کہ پولیس نے بالاخر ان مظاہروں پر قابو پا لیا ہے اور 52 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مشہد حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز تھا۔

تبصرے
Loading...