تین سال گزر گئے، 15 جولائی آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے

0 437

بلاشبہ 15 جولائی کی ناکام خونی بغاوت کی کوشش ترکی کی حالیہ تاریخ میں جمہوریہ کو درپیش سب سے اہم، اور ممکنہ طور پر سب سے بڑے، چیلنجز میں سے ایک تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اُس رات اور اس کے بعد ناکام بغاوت میں 251 شہریوں کی شہادت اور ہزاروں کی دہشت گرد گروہ، گولن ٹیرر گروپ (FETO)، سے تعلق کی وجہ سے گرفتاری ہی جمہوریہ کی داستان میں اس رات کی اہمیت بتانے کے لیے کافی ہے۔ البتہ 15 جولائی کی اصل داستان عوام، بالخصوص نوجوانوں ، کے ذہنوں میں محفظ ہے، جو اب بھی ان واقعات کو یاد کرتے ہیں اور اس دن کو "ملک کے لیے قیامت صغریٰ” کا دن کہتے ہیں۔ "مجھے اس دن کی ہر تفصیل یاد ہے،” 35 سالہ محمد نے کہا، جو استنبول کے قلب تقسیم میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس شام کی یادیں تازہ کر رہے تھے۔

"تقسیم میں عموماً سکیورٹی اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ البتہ میں نے دیکھا کہ اس روز کوئی بھی نہیں تھا جو میرے اور دوستوں کے لیے مشتبہ بات تھی۔ پھر بھی ہم نے فرض کرلیا کہ ہو سکتا ہے کوئی بم کی اطلاع یا ایسا ہی کچھ ہنگامی معاملہ درپیش ہو،”محمد نے اس کو بہت زیادہ توجہ نہ دی۔ البتہ وہ رات زیادہ دیر تک پرامن نہ رہی کیونکہ ایک دوست نے کال کی اور بتایا کہ بغاوت کی کوشش کی گئی تھی۔ "اس وقت میں چیخا، کیا؟ بغاوت؟ اس صدی میں؟” محمد ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شدت جذبات سے رو پڑے۔ محمد کا صدمہ درحقیقت ایک عام احساس تھا، بالخصوص ملک کے نوجوان طبقے میں، جبکہ دوسروں نے بھی اس سیاہ دن کو یاد کرتے ہوئے انہی احساسات کا اظہار کیا۔

"جب میں نے پہلی بار سنا کہ یہ بغاوت تھی، تو میں صدمے میں آ گیا۔ میں نے اچانک خود کو بے یار و مددگار محسوس کیا۔ میں نے تو خیال میں بھی اس کا نہیں سوچا ہوگا،” 25 سالہ نسلی شاہ نے کہا، "پھر بھی، ایسا ہوا۔” نوجوان طبقے کی حیرانگی کے باوجود درحقیقت ترکی ایسی بغاوتوں سے ناآشنا نہیں ہے کیونکہ ایسا چار مرتبہ ہو چکا ہے جن میں پہلی بار 1960ء میں حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ البتہ آخری بغاوت 1997ء میں ہوئی جب محمد بچے تھے اور نسلی شاہ کی عمر صرف تین سال تھی۔ پھر یہ پچھلی بغاوتوں سے بھی کچھ مختلف بھی تھی اور اسے post-modern coup یعنی "ما بعد جدید بغاوت” کہا گیا، کیونکہ اس میں فوجی مارچ کرتے اور اہم مقامات پر قبضے کرتے نہیں دکھائی دیے۔ اس کے بجائے یہ بغاوت "مخصوص” فوجی سے لے کر سرکاری مقامات کے ذریعے ہوئی۔ 1990ء کی دہائی کے خاتمے کے بعد البتہ معاملہ ہموار ہوئے، بالخصوص حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کی آمد کے ساتھ کہ جس نے ایسا ماحول تخلق کیا جس نے عوام کے ذہنوں سے ملکی سیاست میں بغاوتوں کے خاتمے کو یقینی بنایا۔ اس لیے جب 15 جولائی آیا اور پتہ چلا کہ درحقیقت یہ بغاوت کی کوشش تھی، تو ملک بھر میں فوراً ہی حیرت اور صدمے کی لہر دوڑ گئی۔

"جب مجھے پتہ چلا کہ یہ بغاوت کی کوشش تھی، تو میں نےگھر جانے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں میں نے چند مقامی سیاحوں کے ساتھ کچھ راستے پار کیے جو ڈرے ہوئے تھے۔ میں نے ان کو اپنی گاڑی میں بٹھایا۔ البتہ جلد ہی بغاوت کرنے والے فوجیوں نے مجھے روک دیا اور مجھے آگے نہیں جانے دے۔ تو مجھے پیدل ہی جانا پڑا،” محمد نے بتایا۔ محمد کے لیے اگلے دو دن سخت غم، حیرت اور الجھاؤ کے تھے۔ بغاوت کے اگلے ہی دن انہیں ایک پڑوسی کی آخری رسومات میں شرکت کرنا پڑی کہ جو بغاوت کی کوشش کے دوران جان سے گئے تھے اور پھر انہوں نے اپنے صدمے کے احساس کو پیچھے چھوڑا اور چوک چوراہوں پر عوامی اجتماعات میں حصہ لینا شروع کردیا جو بغاوت کرنے والے عناصر کے خلاف عوام کی فتح کی حیثیت سے جاری رہے۔

"اگر حالات دوبارہ پہلے کی طرح نہ ہو جاتے تو میری زندگی تباہ ہو جاتی۔ ایک لمحے کے لیے میں نے خود کو بہت خوف زدہ محسوس کیا،” انہوں نے اپنے احساسات کو یاد کرتے ہوئے کہا۔

نسلی شاہ کی رائے میں وہ دن وقت کے عام بہاؤ کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا اور اسے کسی حد تک روک دیا تھا۔ "مجھے ایسا لگا جیسا میرا مستقبل مجھ سے چھین لیا گیا ہے” بغاوت کی کوشش کے اگلے دن کو یاد کرتے ہوئے نسلی شاہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی استنبول کو اس روپ میں نہیں دیکھا۔ "میں ایک رشتہ دار کے ہاں مقیم تھی اس لیے مجھے اپنے گھر جانا تھا۔ البتہ میں بہت گھبرائی ہوئی تھی اور باہر نکلنے کو تیار نہ تھی۔ بالآخر میں نے باہر قدم رکھا، مجھے لوگوں کے آنکھوں میں موجود خف یاد ہے، جو عکاس تھی کہ کچھ ناقابلِ فراموش ہوا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ہر طرف ٹینک تھے اور میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔” لرزتی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا۔

26 سالہ کان کے مطابق وہ دن "ملک کے لیے قیامتِ صغریٰ” جیسا تھا۔ پہلے تو میں گھبرایا، پھر جب صدر رجب طیب ایردوان کو ٹیلی وژن پر عوام سے مطالبہ کرتے دیکھا تو کچھ سکون اور اعتماد آیا۔ "مجھے لگا کہ وہ (حکومت) اس سلسلے میں کچھ کر رہی ہے۔ میں نے پایا کہ صدر کی تقریر بہت مؤثر ثابت ہوئی۔”

"میں پوری رات جاگتا رہا، اپنے مستقبل اور اپنے پیاروں کے بارے میں تشویش میں مبتلا رہا کہ جوں اس وقت خطرے سے دوچار ہو سکتے تھے۔” کان نے کہا اور گفتگو جاری رکھی کہ پہلی ملازمت شروع کیے ہوئے صرف ایک مہینہ ہوا تھا اور یہ سب کچھ پیش آ گیا۔ "میں نے خود سے سوال کیا کہ کیا میں پیر کو کام پر جا بھی سکوں گا یا نہیں۔ یہ ہے میری قسمت؟” انہوں نے اس وقت خود کو بہت بدقسمت اور ناامید محسوس کیا۔

پھر بغاوت کی کوشش FETO سے تعلق رکھنے والے اور بغاوت میں شریک ہزاروں افراد کی حراست اور گرفتاری کے ساتھ ختم ہوگئی۔ وزارت داخلہ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ FETOکے ساتھ تعلق پر 30,709 افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید 19,329 کو FETO کی رکنیت اور متعلقہ جرائم پر مجرم ٹھہرایا گیا۔

تبصرے
Loading...