آزاد جموں وکشمیریونیورسٹی کے 15 اساتذہ اور طلباء کے لیے ترکی کے تعلیمی وظائف

0 147

ترک ادارہ برائے باہمی تعاون و رابطہ پاکستان کے زیر اہتمام ترک حکومت کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے اسکالرشپ کا دوسرا بیچ روانہ ہو رہا ہے۔ جس میں پانچ طلباء جبکہ دس اساتذہ شامل ہیں جو ترک یونیورسٹیز میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک کریں گے۔

اس سلسلے میں اساتذہ اور طلباء کی الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، پاکستان میں ترک سفارتکار صادق بابر گرگن، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد اور وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی محمد کلیم عباسی نے خطاب کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ترک حکومت کا یہ پروگرام اسکالرز کے لیے بہترین مواقع پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنی نصابی صلاحیت کو بڑھائیں اور پاکستان بلخصوص کشمیر کی سچی نمائندگی کریں- انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں تحقیقاتی تعلیم ڈرائیورنگ فورس کا کردار ادا کرتی ہے-
سرداد مسعود خان نے اس موقع پر کشمیریوں کو مواقع دینے پر جمہوریہ ترکی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکی بغیر کسی لالچ کے 2005ء کے بعد ہونے والے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہے- اس وقت کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوان واحد عالمی رہنماء تھے جنہوں نے اس علاقے کا دورہ کیا- پاکستان اور ترکی کے درمیان مضبوط سفارتی، سیاسی، ثقافتی، لسانی اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں جو کسی قیمت پر کمزور نہیں ہو سکتے-
انہوں نے کہا کہ ترکی کشمیر پر واضع اور دوٹوک موقف رکھتا ہے اور او آئی سی سمیت باقی تمام عالمی تنظیموں میں قراردار کشمیر کو آگے بڑھانے کی بات کرتا ہے-

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ترکی کے سفیر صادق بابر گرگن نے کہا کہ پاکستان اور ترکی سات دہایوں سے ایک تاریخی رشتے کے ساتھ چل رہے ہیں- انہوں نے کہا کہ یہ مضبوط سفارتی، سماجی اور سیاسی تعلقات کسی لمحے کمزور نہیں ہوئے بلکہ دن بدن مضبوط ہو رہے ہیں- ترک حکومت ہمیشہ ہر بحران اور حادثے میں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوتی آئی ہے-

صادق بابر گرگن نے تمام اسکالرز کو خوش آمدید کہا اوربتایا ترک لوگ پاکستانیوں اور کشمیریوں کو اپنا سچا دوست سمجھتے ہیں اس لیے وہ ترکی میں ایسے ہی محسوس کریں گے جیسے اپنے وطن میں ہوتے ہیں-

تبصرے
Loading...