دنیا میں ہونا لیکن دنیا کا نہ ہو کے رہ جانا – ابراہیم قالن

0 183

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔
ابراہیم قالن
مغربی حلقوں اور مستشرقین کی جانب سے ایک تنقید یہ بھی کی جاتی ہے کہ عیسائیت کے مقابلے میں اسلام زیادہ ترجیح دنیاوی معاملات کو دیتا ہے، ناقدین کے خیال میں حضرت عیسی کے مقابلے میں نبی پاک (ص) کے نزدیک سیاسیات اور سماجیات کی زیادہ اہمیت تھی، جس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسلام کی حیثیت مذہب کے بجائے ایک نظریہ کی ہے۔
مستشرقین کے اس قسم کے تصورات اغلاط کے حامل اور غلط تقابل پر مبنی ہیں کیونکہ اسلام دنیا کے وجود کا معترف ہونے کے ساتھ اپنے پیروکاروں کو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی میں ایک ایسا توازن قائم کرسکیں جس سے وہ دنیاوی زندگی میں مکمل طور پر مستغرق ہوئے بغیر پر معنی انداز میں زندگی گزار سکیں۔
عقل ، دانائی اور ہنر انسان کو اشیاء کو گہرائی اور سنجیدگی سے دیکھنے کا اہل بناتی ہے اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ خدا کی اس عظیم تخلیق کا وہ ایک معمولی حصہ ہیں۔ دنیا کی مثال ایک کھلونے کی سی ہے، انسان کی ذہانت اور اس کی سالمیت اور راست بازی کے سامنے یہ غیر مستقل دنیا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ خدا کی یہ تخلیق اس کی شان و شوکت، منصوبہ بندی اور رحمت کا پتہ دیتی ہے۔ یہ سب کائنات میں وجود رکھنے والی تمام اشیاء اور مخلوقات سے زیادہ اہم اور قیمتی چیز کے ہونے پر دلالت کرتا ہے، جو دکھ، تکلیف ، مصیبت اور تشدد کا منبع بھی ہوسکتا ہے اور محبت، شفقت اور درد مندی کا سرچشمہ بھی۔ یہاں پر یہ سوال جنم لیتا ہے جو ہمیں ہر وقت اپنے آپ سے پوچھنا چاہئے کہ وہ ضابطہ کیسے مرتب کیا جائے جس سے ہم ااپنی زندگیوں کو منظم اور پر معنی بنا سکیں۔
یہ محض ایک تصوراتی سوال نہیں بلکہ یہ ہمارے ارد گرد موجود لوگوں سے تعلق استوار کرنے میں بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے اور ہمارے تعمیری اور تخریبی طرز فکرپر بھی بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جدید دنیا کے پاس نہیں۔
کلاسکی مسلمان مفکرین اور سائنسدانوں نے دنیا کی طبیعی حقیقت پر سنجیدگی سے غور کیا اس ادراک کے ساتھ کے کائنات خدا کے بنائے ہوئے قوانین کی پابند ہے، انہوں نے نیچرل دنیا کی تحقیق میں مختلف امور کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور کائنات کی طبعی خصوصیات پر تفصیلی بحث کی، مسلم سائنسدان کائنات کی بدیہی حقیقت کے قائل نہیں تھے، انہوں نے جس کو قران نے "حیات الدنیا” کا نام دیا کے سیاق و سباق میں کائنات کے قوانین کا انہماک اور اور غوروفکر کے ساتھ مطالعہ کیا۔
حیات الدنیا کے جس کو دنیاوی زندگی سے موسوم کیا جاسکتا ہے دراصل اس کی حیثیت ایک شے کی نہیں بلکہ یہ رشتوں سے عبارت ہے۔ وجود کا ایک ایسا دائرہ کار کہ جس میں انسانی خود ساختہ قوانین اور مقرر کردہ اچھائی اور برائی کے اقدار جو اشیاء کی طبیعاتی اور ارضیاتی اصولوں پر سبقت لے جاتے ہیں۔
دنیا کی حیثیت محض ایک انسان کے لئے قیام گاہ کی نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ کی بھی ہے جہاں مختلف قسم کے نظریات، عقائد اور انسانی رویے انسای حالت پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور زندگی کو ایک خاص طرز پر گزارنے میں انسان کے اپنی زندگی میں طے کردہ مقاصد اور اغراض کا ایک بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔
چنانچہ امر اس ضرورت کی ہے کہ ہم دنیا کی طبیعی حقیقیت کا انکار کیے بغیر اسکے اخلاقی اور روحانی چیلنج کو قبول کریں۔ چنانچہ ایک مسلمان کے لئے دنیا کو اسکا پورا حق دینے کے اور پر مسرت زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ نبی پاک (ص) کی یہ حدث یاد رکھنی چاہئے جس کا مفہوم ہے دنیا میں ایک اجنبی کی طرح رہو اسکی خوبصورتی کو سراہنے کے ساتھ اپنے اصل مقصد سے غافل نا ہو۔
اسلام اپنے پیروکاروں کو متبادل راستہ اختیار کرنے اور کسی قسم کی انتہا پسندانہ خو کو اپنانے سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ یہ اس پس منظر کے خلاف تھا کی اسلام نے تاریخ میں ایک دیر پا اور پائیدار تہذیب کی بنیاد رکھی ۔ مسلمان سائنسدانوں ، فلاسفہ، علماء اور حکمرانوں نے کائنات کے جمال وار ضابطہ(آرڈر) کے درمیان ہم آہندگی پیدا کی۔ مسلمانوں کی شاندار سائنسی اور مادی ترقی نے مسلمانون کو مادہ پرستی کی جانب راغب نہیں کیا، انہوں نے دنیا کے عارضی اور سریع الزوال ہونے کا ادراک کرتے ہوئے اللہ کے حکم کے مطابق اسکو امن کا گہوارہ بنایا اور انصاف کا بول بالا کیا۔ کیونکہ قران کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ ہم نے اس دنیا کو تمہیں دنیا میں ایک امانت دار کے طور پر بھیجا ہے۔
اور دنیا کودوبارہ سے محفوظ بنانے اور امن قائم کرنا کا یہی ایک راستہ ہے۔
ہمارے سامنے اس وقت عقلی اور اخلاقی چیلنج دنیا کو اپنا حصول بنانے کے بجائے اس میں جینے کا ہے۔ دنیا کے وجود کا انکاریا اس کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم کیے بغیر رہنے کا ڈھنگ سیکھنے کا اور زندگی کو کچھ اس طرز پر گزارنا کہ جو ہمیں اپنے اصل مقصد سے غافل نا کرے۔
یہ دعوی کے اسلام دنیاوی مذہب ہے بلکل غلط ہے، اسلام اپنے پیروکاروں کو اپنا اصل مقصد بھولے بغیر دنیا کو اسکا پورا حق ادا کرنے کا درس دیتا ہے، اسلام دنیا کے وجود کا انکاری نہیں بلکہ انصاف کا علمبردار ہے جس کا صحیح مفہوم چیز کو اسکی اصل جگہ رکھنے کہ ہیں اوریہ تب ممکن ہوگا جب ہم اپنی زات اور دنیا کے ساتھ منصفانہ رویہ برتیں گیں۔
چانچہ اخلاقی اقدار ار روحانی پختگی کے لئے اور اسی طرح منفی اقدار کے خاتمے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دنیا کے وجود کے معترف ہونے کے ساتھ اس سے بے رغبتی کا رویہ اپنایئں تاکہ ہم اپنے اس مقصد سے غافل نا ہوں جس کا امین بناکر ہمیں اس دنیا میں بھیجا گیا ہے تاکہ جھوٹ کا قلع قمع کرکے لوگوں کو سچائی کا طرف لایا جاسکے اور دنیا کو پائیدار امن و سلامتی کا گہوراہ بنایا جاسکے۔
ترجمہ: سعد بن محمد

تبصرے
Loading...