ہمارے لیے وطنِ عزیز کی بقاء اور قوم کا مستقبل تمام منصوبوں سے زیادہ اہم ہے، صدر ایردوان

0 809

طرابزون ایلڈرلی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے لیے وطن عزیز کی بقاء اور قوم کا مستقبل تمام منصوبوں سے زیادہ اہم ہے۔ مجھے یہ بات واضح طور پر کہنے دیں کہ کوئی بھی ہمیں ترک قبرص کے حقوق اور مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے مفادات کی پیروی سے نہیں روک سکتا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے طرابزون ایلڈرلی ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے استنبول میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کیا۔

"ہم کسی کو بھی شمالی قبرص میں اپنے بھائیوں کے حقوق غصب نہیں کرنے دیں گے”

یونانی قبرص کی انتظامیہ کی جانب سے ڈرلنگ بحری جہاز "فاتح” کے عملے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے انہیں بتا دیا ہے کہ ‘ہمت ہے تو آ کر گرفتار کرلو’۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہم ترکی ہیں، ہم ترک ہیں۔ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمارے جہاز ہمارے علاقے میں ہیں ۔ مزید جہاز بھی راستے میں ہیں۔ چار جہاز اس علاقے میں کام کریں گے۔ ہم یہ کام جم کر کریں گے۔ کسی کو بھی شمالی قبرص میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے حقوق غصب نہیں کرنے دیں گے۔”

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے بیان پر کہ "ترکی کو یہاں سے دستبردار ہو جانا چاہیے”، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں دستبردار ہونے کا کہنے والے آپ کون ہوتے ہیں۔ کیا آپ کا ساحل یہاں لگتا ہے؟ نہیں۔ آپ کی کوئی بھی چیز اس علاقے میں ہے؟ نہیں۔ جبکہ ترکی کا ساحل بھی ہے بلکہ وہ قبرص کے معاملے میں ضامن ریاست بھی ہے۔ یونان بول سکتا ہے۔ برطانیہ بھی کچھ کہہ سکتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ بھی ضامن ریاستیں ہیں۔ ”

"ہمارے لیے وطن عزیز کی بقاء اور قوم کا مستقبل تمام منصوبوں سے زیادہ اہم ہے۔ مجھے یہ بات واضح طور پر کہنے دیں کہ کوئی بھی ہمیں ترک قبرص کے حقوق اور مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے مفادات کی پیروی سے نہیں روک سکتا۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم قربانیاں بھی دیں گے لیکن کبھی ناانصافی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔” صدر ایردوان نے کہا۔

"اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کرنا ہمارا بنیادی حق ہے”

"اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کو مضبوط کرنا ہمارا بنیادی حق ہے،” صدر ایردوان نے کہا۔ "جیسا کہ میں ہمیشہ کہتا ہو کہ ہماری ترجیح اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہے اور ان سے حاصل کرنا ہے۔ ”

"چند روز قبل، میں نے تاجکستان کے دورے میں روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ S-400 معاملے پر بات کی ۔ ہم نے زور دیا کہ اب قدم پیچھے ہٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ معاہدہ ہو چکا ہے اور ہم بہت جلد آرڈر وصول کریں گے۔”

تبصرے
Loading...