رجب طیب ایردوان 64 برس کے ہو گئے

0 2,155

تحریر: کاشف نصیر

رجب طیب ایردوان آج چوسٹھ برس کے ہوگئے ہیں۔ وہ 26 فروری 1954 کو استنبول کے مضافات میں قاسم پاشا نامی ایک یورپی قصبے میں پیدا ہوئے تھے اور انکا تعلق ایک گورجین خاندان سے ہے۔ یہ خاندان خلافت عثمانیہ کے زمانے میں اپنا آبائی وطن چھوڑ کر قسطنطنیہ کے نواح میں آباد ہوا تھاـ

ایردوان نے اپنا بچپن مشرقی اناطولیہ کے شہر ریزی میں گزارا جہاں انکے والد احمد ایردوان ترک کوسٹ گارڈ میں کپتان تھے۔ انہوں نے قاسم پاشا پرائمری اسکول اور امام حاتم اسکول سے ابتدائی حاصل کی جبکہ عکسرے کالج اور مرمرا یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ وہ ایک پروفیشنل فٹ بالر بھی ہیں۔

ایردوان نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1974 میں اشتراکیت مخالف دائین بازو کی ایک معروف طلبہ تنظیم سے کیا۔ اس دوران انکی شناخت "مسکومیہ نامی ایک ڈرامہ تھا، جسکے وہ خود مصنف، ہدایتکار اور اداکار بھی تھے۔ وہ 1976 میں استاد نجم الدین اربکان کی جماعت ویلفئیر پارٹی میں یوتھ لیڈر منتخب ہوئے۔

رفاہ پارٹی نے 1994 میں استنبول کے بلدیاتی انتخابات میں اکثریت حاصل کی تو اس تاریخی شہر کی نظامت کیلئے استاد نے چالیس سالہ اردگان کا انتخاب کیا۔ ایردوان نے اپنے چار سالہ دور میں استنبول کا چہرا ہی بدل دیا۔ 1996 میں رفاہ پارٹی کی ملک گیر کامیابی کے پس منظر میں استنبول کے ترقیاتی منصوبوں اور صفائی ستھرائی کے نظام نے کلیدی کردار ادا کیا تھاـ

1998ء میں رفاہ پارٹی کو اسلام پسندی کے الزام میں کالعدم کیا گیا تو یہ جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ قدامت پرستوں نے فیسیلٹی پارٹی کے نام سے ایک نئی جماعت بنالی جبکہ ایردوان کی قیادت میں پرجوش اصلاح پسند "فریڈیم اینڈ جسٹس پارٹی” کے عنوان سے سامنے آئے۔ اس نئی جماعت کو 2002 میں شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔

ایردوان کی کہانی ترک مفکر محمد ضیاء گوکب کی شہرہ آفاق نظم "مساجد ہماری چھاونیاں ہیں” کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ 1997 میں ایک بڑے جلسے عام کے دوران انہوں یہ نظم پڑھی تھی جس پر انہیں دس ماہ قید اور نااہلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تبصرے
Loading...