صدر ایردوان کی ریٹائرمنٹ، وقت ابھی نہیں آیا

برہان الدین دوران

0 712

صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ بدھ کو انقرہ میں ترکی کے 30 شہروں کے میئرز کی میزبانی کی۔ کابینہ کے وزراء اور صدارتی کونسل برائے لوکل گورنمنٹ پالیسی کے اراکین کے ساتھ مل کر انہوں نے تجاویز بھی سنیں اور اہم اہداف کے حصول کے لیے اپنی ٹیم کو ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت بھی کی۔

ایردوان کی گرم جوشی، بلدیاتی منصوبوں میں حقیقی دلچسپی اور خدمت کی لگن نے حزب اختلاف کے سیاست دانوں کو ضرور حیرت میں کیا ہوگا۔ صدر نے ظاہر کیا کہ وہ جمہور خلق پارٹی (CHP) کے ماتحت بلدیات کو بھی اپنے اہداف کی تکمیل میں مدد دفراہم کریں گے اور یوں مقامی حکومتوں پر مالی و انتظامی دباؤ کی افواہوں کا خاتمہ کردیا۔ یوں صدر ایردوان نے واضح کردیا کہ انتخابات اب ماضی کا حصہ بن چکے۔ تقریب میں شریک میئرز کے سامنے اپنے خطاب میں صدر نے دہشت گردی کے خلاف اپنے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ "وہ ان میئرز سے ملاقاتوں پر خوش ہیں کہ جو دہشت گرد گروپوں سے فاصلہ اختیار کرنے میں کامیاب رہے۔” بدھ کے اجلاس اور حال ہی میں دہشت گردوں سے روابط پر تین میئرز کے اخراج نے تصدیق کی ہے کہ اگلے چار سالوں کے لیے کئی عوامل پر ایردوان کی گرفت ہے۔

حالانکہ 2023ء تک کوئی انتخابات طے شدہ نہیں لیکن پھر بھی سیاسی قضیے کی حالیہ شدت ترکی کے لیے ایک نئی بات ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ اقتصادی کارکردگی اگلے دو سالوں میں قبل از وقت انتخابات کا باعث بن سکتی ہے۔ گو کہ حزب اختلاف فی الحال اس کا مطالبہ نہیں کر رہی۔ نئی سیاسی تحاریک اور میدان میں ڈٹے رہنے کے خواہشمند سیاست دان اسی امید پر زندہ ہیں۔ حال ہی میں سابق وزیرِ معیشت علی بابا جان نے اعلان کیا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک ایک نئی سیاسی جماعت بنائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو ان سے بھی زیادہ تیزی سے قدم اٹھائیں گے۔

2018ء میں نیشنل الائنس کے ٹکٹ پر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے محرم انجہ نے بھی کہا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر انتخابات میں حصہ لیں گے، یعنی انہیں بھی قبل از وقت انتخابات کی امید ہے۔ محرم کا اعلان ممکن ہے کہ استنبول کے میئر اکرم امام اوغلو کی مقبولیت پر مایوسی کو ظاہر کرتا ہو۔ بہرحال، ان کی امیدواریت جمہور خلق پارٹی کے حلقوں میں ایک نئے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔

آق پارٹی اور ابھرتی ہوئی سیاسی تحاریک میں پیش رفتوں سے آگاہ مبصرین بخوشی کہہ رہے ہیں کہ ایردوان "دیوار سے لگ چکے ہیں۔” 31 مارچ کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج دیکھ کر ان کا انداز ہے کہ پارٹیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پیپلز الائنس کو 50 فیصد سے بھی نیچے لے آئے گی۔ قبل از انتخابات کا یہی خواب متعدد پولز کے اجراء کا سبب بھی بنا۔ سیاسی منظرنامے میں یہ تبدیلیاں میڈیا کے لیے بھی بہت اچھی ہیں، لیکن ترکی میں قبل از وقت انتخابات کے مفروضے کے ساتھ تین مسائل ہیں۔

پہلا یہ کہ یہ صدارتی نظام کے تحت پہلا دور ہے اور اگلے انتخابات چار سال دُور ہیں۔ اس دوران اہم مقامی و بین الاقوامی حالات موجودہ اتحادوں کی نوعیت تبدیل کر سکتے ہیں۔ پھر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرنا آسان نہیں ہے، کیونکہ اس کے لیے 360 اراکین پارلیمان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

دوسرا یہ کہ صدارت بدستور ایردوان کی گرفت میں ہے، جو اس عہدے پر اپنا 17 سال ساتھ لائے تھے۔ حالات کے مطابق ڈھلنے کے لیے کچھ اقدامات اٹھاتے ہوئے انہیں اگلے انتخابات سے قبل کافی وقت ملے گا۔ ایردوان وہ صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں جو سیاسی منظرنامے پر طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔ تمام سیاست دان صدر ایردوان کے حساب سے اپنی پوزیشن کا تعین کرتے ہیں۔ چاہے وہ امام اوغلو ہوں، انجہ، داؤد اوغلو یا باباجان، وہ ایرودان کے حوالے سے اپنے رویّے کی بنیاد پر اپنی سیاسی تحاریک کی سمت بندی کرنے کے خواہاں ہیں۔

آخر میں یہ کہ ایردوان اپنی سیاسی جماعت کے اندر انتخابات کروا کرواکے بلدیاتی انتخابات اور اقتدار کے طویل دورانیہ کے بعد بحالی کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے وہ اتنی طاقت رکھیں گے کہ اپنی پالیسی تجاویز کو نافذ کرکے اپنے حریفوں کو بے دست و پا کردیں۔ پانچ سال تک ترک صدر نے غیر معمولی حالات میں کام کیا – چاہے انتخابات ہوں یا دیگر اہم معاملات۔ اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ انتخابات سے آزاد چار سالوں میں کام کریں۔

یاد رکھیں کہ سیاست میراتھون ہوتی ہے، 100 میٹر کی دوڑ نہیں۔ دیکھتے ہیں کہ میدان میں کون باقی بچے گا۔

تبصرے
Loading...