آیاصوفیا کو دوبارہ مسجد قرار دیا جائے گا؟ فیصلہ جمعے کو متوقع

0 441

سن 1934ء میں استنبول کی آیاصوفیا کو عجائب گھر میں تبدیل کرنے کے حوالے سے ترکی کی اعلیٰ ترین انتظامی عدالت متوقع طور پر جمعے کو فیصلہ کرے گی۔

ریاستی کونسل نے پچھلے ہفتے آیاصوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کے حق میں وکلاء کے دلائل سنے تھے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ وزراء کی کونسل کا 1934ء میں کیا گیا فیصلہ کالعدم قرار دے کہ جس کی وجہ سے اس تاریخی عبادت گاہ کو عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ایک سینئر ترک عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہمیں امید ہے کہ جمعے کو یہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے گا” جبکہ حکمران عدالت و انصاف (آق) پارٹی نےبھی کہا ہے کہ فیصلہ "کالعدم قرار دینے کے حق میں آئے گا۔”

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن کا بھی کہنا ہے کہ آیاصوفیا کو مسجد میں تبدیل کرنے کا اس تاریخی عالمی ورثے کی شناخت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

مصطفیٰ کمال اتاترک کی جانب سے جدید سیکولر جمہوریہ ترکی کے قیام کے بعد ایک دہائی میں اس عبادت گاہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف وکلاء کا کہنا ہے کہ آیاصوفیا سلطان محمد فاتح کی ملکیت تھی کہ جنہوں نے 1453ء میں شہر فتح کیا تھا اور اُس وقت 900 سال سے قائم اس گرجے کو مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔

آیاصوفیا دنیا کے اہم ترین تاریخی و ثقافتی ورثہ مقامات میں سے ایک ہے کہ جسے چھٹی صدی میں بزنطینی دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ یونانی آرتھوڈوکس گرجے کا مرکز تھا۔ 1453ء میں فتحِ قسطنطنیہ کے بعد اسے شاہی مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔ 1935ء میں سخت گیر سیکولر دورِ حکومت میں اسے مسجد سے عجائب گھر میں بدل دیا گیا۔ لیکن ایک عرصے سے اسے دوبارہ مسجد قرار دینے کے مطالبات گردش کر رہے ہیں۔

چند حلقوں کا کہنا ہے کہ اسے مسلمان-عثمانی ورثہ ہونے کی حیثیت سے واپس مسجد میں تبدیل کیا جائے جبکہ دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا عالمی ورثہ ہونے کی وجہ سے اسے عیسائی مسلم اتحاد کی علامت کی حیثیت سے عجائب گھر ہی رہنا چاہیے۔

امریکا، روس اور یونان سمیت دنیا بھر کے مسیحی رہنماؤں نے ترکی کی عدالت کے متوقع فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی فیصلہ مشرق اور مغرب کے درمیان "دراڑ” پیدا کرے گا۔

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ آیاصوفیا کے حوالے سے ترکی پر الزامات ملک کی سالمیت کی براہ راست خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر 435 عیسائی اور یہودی عبادت گاہیں ہے کہ جہاں ان مذاہب سے تعلق رکھنے والے آزادانہ عبادت کر سکتے ہیں۔

تبصرے
Loading...