بحیرۂ اسود کی سیاحت، جہاں فطرت کا حسن عروج پر ہے

0 934

ترکی سیاحوں کو ہمیشہ حیرت میں مبتلا کرتا ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے کھدرے میں جائیں نت نئے قدرتی یا تاریخی عجائبات آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس ہفتے اور آئندہ ہفتے ہم بحیرۂ اسود کے علاقے کا جائزہ لیں گے اور آپ کو ان بہترین مقامات کا احوال بتائیں گے تاکہ آپ اپنی آنکھوں سے اناطولیہ کے سرسبز مناظر دیکھیں اور ان کا لطف اٹھائیں۔

آبنائے مرمرا سے ترکی کی شمال مشرقی سرحد تک بحیرۂ اسود کا علاقہ ثقافتی لحاظ سے ایک گوہرِ نایاب ہے جو صدیوں سے دریافت کیے جانے کا منتظر ہے۔ اپنے سرسبز پہاڑوں، انوکھے رسم و رواج اور کھانے کی وجہ سے معروف یہ علاقہ ایک جیتا جاگتا ثقافتی اثاثہ ہے۔ اناطولیہ کے شمالی حصےمیں واقع بحیرۂ اسود کے اس علاقے میں سالانہ سب سے زیادہ بارشیں ہوتی ہیں، جو اسے مسحور کُن رنگت اور اناطولیہ کی بہترین جنگلی حیات دیتی ہیں۔

طرابزون

مشرقی بحیرۂ اسوَد کے ساحل پر واقع طرابزون کو یونانیوں نے بسایا۔ اپنے قیام سے آج تک کئی تہذیبوں کا مرکز رہنے والا طرابزون شاہراہِ ریشم کے دنوں سے ایک اہم ساحلی شہر ہے۔ بحیرۂ احمر کی سیاحت کے دوران چند دن تاریخی مقامات اور بے مثل قدرتی حسن رکھنے والے طرابزون میں بھی ضرور گزاریں۔

اوزن گول: بحیرۂ احمر کے بارے میں سوچتے ہی جو پہلی چیزذہن میں آتی ہے وہ پہاڑی علاقے ہیں۔ یہ پہاڑی علاقے سطحِ سمندر سے کم از کم 700 میٹر بلند ہیں جو گرمیوں میں ٹھنڈا موسم اور آکسیجن سے بھرپور فضا فراہم کرتے ہیں۔ پہاڑوں میں گھری اور سبز درختوں کے درمیان اوزن گول (لمبی جھیل) 1000 میٹر بلند پہاڑی علاقوں میں واقع ہے۔ اوزن گول کو پرکشش بناتے ہیں وہ مناظر کہ جہاں نیلی جھیل سبز پہاڑیوں سے ملتی ہے۔ اوزن گول اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اور بہت سے پہلوؤں سے سیاحوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے جیسا کہ تاریخی و علاقائی تعمیرات اور کھانے پینے کے مقامی طریقے۔ پہلے اوزن گول کو اناطولیہ کا پوشیدہ نگینہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ حالیہ چند سالوں میں سیاحوں کی بڑے پیمانے پر آمد کی بدولت سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی کہ جنہوں نے گاؤں میں کئی ہوٹل، ریستوران اور سووینیئر شاپس کھولیں۔ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی بہتر ہو گیا ہے۔

سمیلا خانقاہ: مچکا ضلع میں خوبصورت میلا پہاڑ کے دامن میں یہ بی بی مریم کی یونانی خانقاہ ہے کہ جسے عموماً سمیلا خانقاہ کہا جاتا ہے۔ یہ چوتھی صدی عیسوی میں قائم ہوئی لیکن پچھلی صدی کے اوائل میں یونان کے ساتھ آبادی کے تبادلے کے بعد اس نے اپنے دروازے بند کردیے۔ چٹان کے کناروں پر موجودگی اس خانقاہ کو تاریخی عمارات ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین سیاحتی مقام بھی بناتی ہے۔ گو کہ خانقاہ 2015ء سے بند ہے لیکن اب بھی یہ گھومنے کے لیے بہترین مقام ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اس کی بحالی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور تاریخی عمارت کے چند حصے سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔

آرتوین

دریائے چوروہ کی تراشی گئی گہری وادیوں کے اردگرد کاچکار، کارچال اور یلنیزچام کے بلند پہاڑ، جنگلات اور کاراگول – سہارا جیسے نیشنل پارک میں گھرا آرتوین فطری حسن دیکھنے کے لیے ایک زبردست سیاحتی مقام ہے۔ جارجیا کی سرحد پر واقع آرتوین کوئی جادوئی مقام لگتا ہے، جس میں بلند پہاڑوں کے ساتھ بادل منڈلاتے رہتے ہیں، جو ہزاروں سال کی تاریخ رکھتا ہے اور اناطولیہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔

خطے کے کسی بھی دوسرے شہر کی طرح آرتوین میں بحیرۂ اسود کا خاص ماحول پایا جاتا ہے: بہت مرطوب اور معتدل، جس کی بدولت ساحل کے ساتھ خوبصورت جنگلات بنے ہیں۔ بارش بہت زیادہ ہوتی ہے، زیادہ بلندی پر برف باری میں تبدیل ہو جاتی ہے اور سردیوں میں چوٹیوں پر بہت ٹھنڈ ہوتی ہے۔

کاراگول: کاراگول اور سہارا کی سطح مرتفع میں پھیلا کاراگول نیشنل پارک 1990ء کی دہائی سے محفوظ علاقہ ہے۔ دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں سے ایک سمجھی جانے والی کاراگول (سیاہ جھیل) کلاسکر کے پہاڑی علاقوں میں ایک لینڈسلائیڈ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ 3251 ہیکٹرز پر پھیلا نیشنل پارک دو علاقوں پر مشتمل ہے۔ کاراگول کی سمت گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اور مقامی افراد کی جانب سے تفریح کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سہارا کے علاقے میں مقامی افراد اپنی روایتی بحیرۂ اسود والی پہاڑی زندگی گزارتے ہیں۔ گو کہ آرتوین کے پہاڑی علاقوں کے درمیان ٹرانسپورٹ عموماً مشکل ہوتی ہے، لیکن کاراگول نیشنل پارک پہنچنا بہت آسان ہے۔ بلدیہ متعدد سہولیات اور تفریحی علاقے چلاتی ہے۔

ریزہ

ترکوں کو چائے بہت پسند ہے اور حقیقت یہ ہے کہ کم از کم ایک کپ چائے نہ پیئں تو ان کا دن نہیں کٹتا۔ لیکن یہ چائے آتی کہاں سے ہے؟ بحیرۂ اسود کے علاقے کے دمکتے ستارے ریزہ سے۔

ریزہ اور ملحقہ صوبے وہاں واقع ہیں جہاں پہاڑی علاقے اپنی بلندیوں پر پہنچتے ہیں، کاچکار کی تقریباً 4000 میٹر بلند چوٹی تک۔ صوبہ معتدل اور نیم منطقہ حارہ کا موسم رکھتا ہے جس کی وجہ سے یہاں منطقہ حارہ میں پیدا ہونے والی فصلیں کاشت کی جا سکتی ہیں جیسا کہ چائے اور کیوی پھل اور بحیرۂ روم کی فصلیں جیسا کہ ترنجی پھل۔

آئیدر کے پہاڑی علاقے: ریزہ چائے کے لیے مشہور ہے لیکن جو چیز اسے ممتاز کرتی ہے وہ اس کے پہاڑی علاقے ہیں۔ کاچکار پہاڑوں کے دامن میں آئیدر کے مسحور کن پہاڑی علاقے ہیں، جبکہ ریزے سے 19 کلومیٹر دور چاملی ہمشِن ہے جو سطح سمندر سے 1350 میٹرز بلندی پر واقع ہے اور حیرت انگیز سر سبز علاقوں میں گھرا ہوا ہے۔

آئیدر کے پہاڑی علاقے 14 ویں صدی سے مقامی افراد کے لیے جائے پناہ ہیں۔ آئیدر اپنے شفایاب پانیوں کی وجہ سے بحیرۂ اسود کے خطے میں دیگر پہاڑی علاقوں سے ممتاز ہے کہ جہاں اوسط آبی درجہ حرارت 50 درجہ سینٹی گریڈ ہے جو کئی امراض کے لیے اچھا ہے، بالخصوص گٹھیا، کیلسی فکیشن، چنبل، سرخ باد اور ہاضمے کے مسائل کے لیے۔ چشموں میں سوڈیم، کیلشیم، میگنیشیم، آئرن، المونیم، سلفیٹ، کلورائیڈ اور دیگر معدنیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔

آئیدر کے پہاڑی علاقے اپنے شہد کے حیران کن ذائقے کی وجہ سے بھی معروف ہیں، ان بلند علاقوں کی روایتی سرگرمیاں بھی شہد کے گرد ہی گھومتی ہیں اور روایتی کھانوں میں یہ بھی شہد بہت استعمال ہوتا ہے۔

تبصرے
Loading...