ترکی کے اعلیٰ عہدیدار لبنان کے دورے پر

0 262

ترکی کے چند اعلیٰ عہدیدار ہفتے سے لبنان کے دارالحکومت بیروت کا دورہ کر رہے ہیں کہ جہاں پچھلے ہفتے ایک زبردست دھماکے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔

نائب صدر فواد اوقتائی اور وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو متوقع طور پر لبنانی صدر مشیل عون، پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اور وزیر اعظم حسن دیاب سے ملاقات کریں گے۔

منگل کو بیروت کی بندرگاہ پر ایک گودام میں آگ لگنے کے بعد زبردست دھماکا ہوا تھا جس نے اردگرد کے علاقوں کو بہت نقصان پہنچا۔ کم از کم 154 افراد جان سے گئے جبکہ تقریباً 5 ہزار افراد اس واقعے میں زخمی ہوئے۔

فی الحال یہ سمجھا جا رہا ہے کہ دھماکا ممکنہ طور پر اس آگ کے 2,750 ٹن امونیم نائٹریٹ تک پہنچنے کی وجہ سے ہوا کہ جو 2013ء میں ایک ضبط کیے گئے بحری جہاز سے نکال کر یہاں محفوظ کی گئی تھی۔ آگ لگنے کی ابتدائی وجوہات کا علم نہیں ہے۔

لبنانی حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ پانچ دن کے اندر واقعے کی تحقیقات کی جا سکیں۔

دھماکے نے لبنان کو ہلا کر رکھ دیا کیونکہ ملک پہلے ہی بدترین اقتصادی بحران کا شکار ہے، جس میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں لبنانی پاؤنڈ کی قدر میں کمی بھی شامل ہے۔

ترکی نے لبنانی دارالحکومت کی امداد کے لیے سرکاری اور نجی خیراتی اداروں کو متحرک کیا ہے۔

واقعے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے لبنانی ہم منصب مشیل عون سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لبنان کے عوام سے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اس مشکل گھڑی میں لبنان کے شانہ بشانہ ہے اور صحت کے ساتھ ساتھ ہر شعبے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

بدھ کو ترکی کا ایک فوجی طیارہ صدر ایردوان کے حکم پر امدادی سامان اور 21 اراکین پر مشتمل ایک امدادی ٹیم کے ساتھ انقرہ سے بیروت پہنچا۔

تبصرے
Loading...