طرابزون: مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کا مسکن

0 355

طرابزون کہ جس کی تاریخ زمانہ قدیم سے جا ملتی ہے، مشرقی بحیرۂ اسود میں ثقافتوں اور قدرتی وسائل کا مرکز ہے۔


تاریخی شاہراہِ ریشم پر واقع یہ شہر صدیوں سے مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کا مسکن رہا ہے۔


اپنی بندرگاہ اور افسانوی شاہراہِ ریشم میں اہم مقام پر موجودگی کی وجہ سے اس شہر نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔


یہ اتنا مشہور تھا کہ 14 ویں صدی میں مارکو پولو بھی اس شہر میں آئے۔


طرابزون زینوفون، اولیا چلبی، فال میرایر اور فرونزے جیسے دوسرے معروف سیاحوں کو بھی متاثر کرنے میں کامیاب رہا کہ جنہوں نے اس شہر میں قدم رکھے اور اپنے سفرناموں اور مسودوں میں ذکر کرکے اسے امر کردیا۔


آج بھی یہ شہر تجارت و ثقافت کا اہم مرکز ہے اور عجائب گھروں، خانقاہوں، مساجد، مزارات، کاروان سرائے، حماموں، ڈھکے ہوئے بازار، شہر کی فصیلوں اور شاندار شہری تعمیراتی ڈھانچے، بازاروں اور خوبصورت ارضی مناظر کا حامل ہے۔


13 ویں صدی کا بزنطینی گرجا آیاصوفیہ، جو اب آیاصوفیہ مسجد کہلاتا ہے، طرابزوں کی مسیحی یادگاروں میں سب سے نمایاں ہے۔


ایسا ہی ایک مقام سومیلا خانقاہ ہے جو طرابزون سے تقریباً 54 کلومیٹر دور آلتن درہ سے وادی پر نگاہ ڈالتی ہے۔


یہ آلتن درہ نیشنل پارک میں واقع ہے جو وادئ آلتن درہ کی زبردست نباتات اور ارضیاتی مناظر کا مسکن ہے۔


خانقاہ 270 میٹر بلند ایک کھڑی چٹان کے اوپر واقع ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ زمین اور آسمان کے درمیان تیر رہی ہے۔


راہبوں کی رہائش گاہوں کے آثار میں گھری اس خانقاہ کا مرکزی گرجا خوبصورت نقوش سے مزین ہے۔


یہ اپنی نوعیت کی منفرد تعمیر کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ اپنی شان و شوکت کے لحاظ سے بھی ایک غیر معمولی جگہ ہے۔


سومیلا خانقاہ کی تعمیر کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ایک رات دو یونانی راہبوں نے بی بی مریم کو خواب دیکھا اور جنہوں نے انہیں کسی دور دراز وادی میں ایک خانقاہ بنانے کا حکم دیا۔


طرابزون کی ایک علامت اوزن گول نیشنل پارک بھی ہے جو شہر سے 95 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔


یہ پارک زبردست نباتاتی و جنگلی حیات رکھتا ہے اور غیر معمولی قدرتی حسن کا حامل ہے۔


اس میں آنے والوں کی رہائش کی سہولیات، پکنک کے علاقے اور ٹریکنگ کے راستے بھی ہیں۔


قدرت کے شاہکار اپنی جگہ لیکن طرابزون اپنے مہمانوں کی تواضع غیر معمولی کھانوں سے بھی کرتا ہے۔ شہر کے ریستوران ایسے مقامی کھانے بناتے ہیں جن کے ذائقے دنیا میں نہیں ملتے۔

تبصرے
Loading...