تجارتی جنگوں کے اس دور میں قومی کرنسی میں تجارت کی اہمیت کہیں بڑھ گئی ہے، صدر ایردوان

0 399

ملائیشیا میں ترقی کی ترجیحات اور چیلنجز کے حوالے سے ایک گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "تجارتی جنگوں کے اس دور میں قومی کرنسی میں تجارت کی اہمیت کہیں بڑھ گئی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اسلامی مالیات کے معاملات کو اپنے ایجنڈے پر رکھنا چاہیے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ملائیشیا میں منعقدہ کوالالمپور سمٹ کے دوران ترقی کی ترجیحات اور چیلنجز کے عنوان پر ایک گول میز اجلاس سے خطاب کیا۔

"ہمارے پاس ادائیگی کا کوئی نظام موجود نہیں، اس لیے ہماری مالیاتی مارکیٹیں کسی بھی دھچکے یا سازش کے مقابلے میں کمزور ہیں”

کوالالمپور سمٹ کے دوران امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر گفتگو کی گئی، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ سمٹ کے شرکاء کے پیش کردہ خیالات عموماً یکساں ہیں۔

باہمی تجارت کوغیر ملکی زرِ مبادلہ کے دباؤ سے بچانے کی ضرورت پر اپنے دیرینہ مطالبے کو دہراتے ہوئے صدر ایردوان نے باہمی تجارتی لین دین کے لیے غیر ملکی کے بجائے قومی کرنسی کے استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔

"کیونکہ ہمارے پاس ادائیگی کا اپنا نظام نہیں اس لیے ہماری مالیاتی مارکیٹیں کسی بھی دھچکے یا سازش کے مقابلے میں کمزور ہیں،” صدر نے ترکی کی جانب سے احتیاطاً روس، چین اور برازیل جیسے ملکوں کے ساتھ ادائیگی کا متبادل نظام بنانے کی ترکی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ ” تجارتی جنگوں کے اس دور میں قومی کرنسی میں تجارت کی اہمیت کہیں بڑھ گئی ہے۔ ہم اس معاملے پر آپ کے ساتھ تعاون پر تیار ہیں، جس کے ہم نے زبردست نتائج پائے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے اسلامی مالیات کے معاملات کو اپنے ایجنڈے پر رکھنا چاہیے۔

"ٹیکنالوجی اور جدت دو ایسے شعبے ہیں جن پر توجہ رکھنی چاہیے”

اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ سمٹ کے شریک ممالک سُود سے پاک مالیات کے شعبے میں زبردست صلاحیتیں رکھتے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے مالیاتی ماہرین پر مشتمل ایک ورکنگ گروپ بنا سکتے ہیں تاکہ اس پورے معاملے کو کوئی صورت دے سکیں۔ یوں ہم ایک جامع اور تفصیلی نقشہ راہ کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔”

ٹیکنالوجی اور جدت کو باریک بینی سے توجہ کے متقاضی دو اہم شعبے قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ "بلاشبہ ٹیکنالوجی میں کی جانے والی ہر سرمایہ کاری قدر میں اضافے کے ساتھ ایک مضبوط اور بھرپور نمو کی صورت میں واپس ملتی ہے۔”

"ہم اپنی جامعات کے درمیان تعاون کو بھی بڑھا سکتے ہیں”

اسلامی ممالک کی متحرک و نوجوان آبادی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں سخت کام کی ضرورت ہے، جو سماجی صلاحیتوں کو آزاد کر سکتا ہے۔

صدر ایرودان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنی جامعات کے مابین تعاون اور طلبہ و ماہرین تعلیم کے تبادلے کے پروگرامات کی تعداد میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ ہم باہمی تعاون بڑھانے کے لیے اپنے تھنک ٹینکوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر اپنے مشترکہ اہداف مکمل کر سکتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...