ترکی میں رمضان کے روایتی ذائقے

0 2,194

پوری مسلم دنیا کی طرح ترکی میں بھی رمضان کا مقدس مہینہ جاری ہے، ایک ایسا مہینہ کہ جس میں مسلمان صبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ اسلام کے پانچ بنیادی اراکین میں سے ایک ہے اور مہینہ بھر جاری رہنے والے یہ روزے اسلامی کیلنڈر کے نویں مہینے میں رکھے جاتے ہیں جو روحانی تصورات، خود اصلاحی اور زہد و عبادت میں بہتری کا وقت ہے۔ اِس سال یہ مقدس مہینہ 5 مئی کو شروع ہوا، کیونکہ اس کی تاریخیں ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اور 4 جون کو عید الفطر کے ساتھ مکمل ہوگا جسے ترکی میں رمضان بیرام کہتے ہیں۔

اِس کا مطلب ہے کہ یہ روزوں کا آخری ہفتہ ہے۔ رمضان میں صبحِ صادق سے پہلے سحری کے لیے اٹھا جاتا ہے، جو دن کے آغاز سے قبل آخری کھانا ہوتا ہے، اس کے بعد سورج غروب ہونے پر روزہ مکمل کرنے کے لیے افطار ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ دونوں کھانے اس مقدس مہینے میں زبردست اہمیت رکھتے ہیں اور ترکی میں کھانے پینے کی ایسی کئی مخصوص چیزیں ہیں جنہیں اِن اوقات میں خاص طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

رمضان پیتا: افطار و سحر کی ملکہ

مقبولِ عام رمضان پیتا (Ramadan Pita)، بڑی محنت سے بنائی جانے والی گول روٹی، جس پر بقلاوہ جیسی پرتیں ہوتی ہے۔ یہ افطار کے لیے ایک لازمی چیز سمجھی جاتی ہے اور اسے خریدنے کے لیے تو رش کے اوقات میں تو نان بائیوں کے پاس طویل قطاریں لگ جاتی ہیں۔ یہ خاص روٹی صرف رمضان کے مہینے میں اور صرف شام کو ہی کیوں بنائی جاتی ہے؟ یہ ایک معمہ ہے؛ البتہ کیونکہ اسے بنانا زیادہ مہنگا اور زیادہ وقت طلب ہے، شاید اسی لیے یہ صرف رمضان کے لیے ہی مخصوص ہے۔ پھر رمضان میں مقامی نان بائیوں کے باہر قطاروں میں لگ کر عین افطار کے وقت پر گرماگرم پیتا لینا ہمیشہ ایک زبردست روایت رہی ہے۔ پیتا کا آٹا چینی، تیل، دودھ اور یہاں تک کہ انڈوں سے بھی گوندھا جاتا ہے اور لکڑی کی آگ پر تپنے والے تندور میں پکائے جانے سے پہلے متعدد بار خمیر کیا جاتا ہے۔ پیتا کو پکنے کے دوران بارہا پلٹا جاتا ہے اور اس پر تل اور سیاہ بیج ڈالنے سے قبل اس پر خصوصی آمیزہ "شفا” لگانے کے لیے مہارت بہت ضروری ہے۔ یہ آمیزہ روٹی کو اس کی خاص سنہری چمک دیتا ہے۔

افطار کی میز پر ایک اور لازمی چیز کھجور ہے۔ روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی کھجور سے روزہ افطار کرنے کی ہدایت کی، اس لیے تاریخ میں غذائیت سے بھرپور یہ جادوئی میوہ افطار کے لیے ہمیشہ پہلی چیز رہا ہے، جسے مسلمان ایک سخت روزہ گزارنے کے بعد کھاتے ہیں۔ اس لیے رمضان کی روایات کے بارے میں کم علم رکھنے والوں کے لیے کم از کم یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی بھی افطار کے لیے کھجور بہت اہم ہے۔

گو کہ "افطار صفراسی” (iftar sofrası)، یعنی افطار کے کھانے کی میز، خشک میوے اور گری، زیتون، پنیر اور گوشت کی چیزوں سے بھری پڑی ہوتی ہے، لیکن یہی وہ مہینہ ہے جس میں ترکی کے شوربے کے کھانوں کی ثقافت بھی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ روایتی طور پر ترکی، بالخصوص زیادہ دیہی علاقوں میں، کئی گھرانے رمضان سے کافی پہلے بڑی محنت سے خشک شوربوں کے آمیزے بناتے ہیں اور ہاتھوں سے بنی سویّاں اس میں شامل کی جاتی ہیں۔ تاریخ کا پہلا انسٹنٹ سوپ ترکی کا مشہور ترخانا اہم کردار ادا کرتا ہے ان دوسرے انوکھے اور تازہ دم کر دینے والے شوربوں کی طرح جو دہی پر مبنی ہوتے ہیں اور ٹھنڈے یا گرم پیش کیے جاتے ہیں۔ ان شوربوں میں سب سے مشہور "ییلا” ہےجس کی ہر خطے میں اپنی اقسام اور اپنے نام ہے، جن میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے "ابیک”، "یوالاما،” اور "اغماق” ہیں۔

فروٹ چاٹ اور شربت بھی عثمانی عہدسے جاری روایات ہیں۔ آجکل انہیں پانا مشکل تو ہے لیکن خوبانی، سفر جل، سیاہ چیری، انگور، آلو بخارے اور آڑوؤں جیسے پھلوں کی چاٹ افطار کا لطف دوبالا کردیتی ہے۔ تاریخی طور پر بے اوغلو کا عبد اللہ لوکانتاشی فروٹ چاٹ کے لیے بہترین مقامات میں سے ایک ہے کہ جن کے شیلف مختلف فروٹ چاٹوں سے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔ قدرتی جڑی بوٹیوں سے بننے والے تازہ مشروبات جیسا کہ املی، شہتوت، کندس اور گلاب سمیت کئی قسم کے مشروبات، بھی افطار کے خاص وقت کی خاص چیزیں ہیں۔ قاضی کوئے کے چیا (Çiya) کی توجہ علاقائی اور عثمانی کھانوں پر ہوتی ہے اور ان کے پاس شربتوں کی طویل فہرستیں بھی ہیں۔

گولاچ اور قندیاں

گولاچ (Güllaç ) ایک میٹھا ہے جو زیادہ تر رمضان کے مہینے میں بنایا جاتا ہے۔ مکئی کے خشک نشاستے، آٹے اور پانی، کی پرتوں پر مشتمل گولاچ دودھ اور عرقِ گلاب میں بھگویا جاتا ہے۔ بقلاوہ کے پیشرو سمجھنے جانے والے اس میٹھے میں استعمال ہونے والی پرتیں روایتی طور پر رمضان سے مہینوں پہلے تیار کی جاتی ہیں اور پھر انہیں اس مہینے میں استعمال کے لیے محفوظ کرلیا جاتا ہے۔ اپنے بقلاوہ کے لیے معروف قاراکوئے گولواوغلو شہر میں بہترین گولاچ بنانے کے لیے بھی مشہور ہے۔ سرائے محلہ بجیسی، جو درجنوں شاخیں رکھنے والی روایتی ترک چین ہے، طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی اپنا روایتی ذائقہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے، اور بھینس کے دودھ کے ذریعے گولاچ بناتی ہے۔

آخری چیز قندی یعنی candy ہے۔ اس میں تو حیرت کی کوئی بات ہی نہیں کہ قندی عید الفطر کا اہم جُز ہے، جسے ترکی میں بھی میٹھی عید کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں ننھے بچے قندی کے لیے اڑوس پڑوس کے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ اس کی تیاری کے لیے بہتر یہی ہے کہ تقسیم کرنے کے لیے سخت یا نرم قندیوں یا چاکلیٹوں کا ایک بڑا تھیلا پہلے سے لے لیں۔ روایتی طور پر عید دوستوں اور اہل خانہ سے ملنے کا وقت بھی ہے اور اپنے مہمانوں کو کو مٹھائیاں پیش کرنا بھی روایت کا حصہ ہے۔

تبصرے
Loading...