ہماری حکومت میں خواتین کو سچی آزادی فراہم کی گئی، ایردوان

0 230

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے انٹرنیشنل وومن ایٹ ورک کی دوسری سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہمارے ملک کی خواتین اپنے حقوق سے درست طریقے سے لطف اندوز ہو رہی ہیں جو 1934ء میں حاصل کئے گئے تھے، آق پارٹی کی انتظامیہ نے اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کی۔ ہماری حکومت میں ترک خواتین کو سیاسی، معاشی، تدریساتی اور کمرشل معنوں میں حقیقی آزادی حاصل ہے”۔

انہوں نے کہا کہ ترکی کے وقار اور تاریخ کے برعکس لاگو کئے جانے والے شرمناک عمل صرف آق پارٹی کی جدوجہد سے ہی ختم ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء کی ریفامز نے خواتین کی آزادی کو ہی وسعت نہیں دی بلکہ سب کو آزادی دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2005ء کی خواتین کی شرع ملازمت 22.7 سے بڑھ کر 2017ء میں 34.3 فیصد ہو چکی ہے جو 2023ء تک 41 فیصد ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی سچا ضمیر رکھتا ہے وہ ترکی میں یہ دیکھ کر گواہی دے گا کہ ہمارے ملک کی خواتین اپنے حقوق سے درست طریقے سے لطف اندوز ہو رہی ہیں جو 1934ء میں حاصل کئے گئے تھے، آق پارٹی کی انتظامیہ نے اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کی۔ ہماری حکومت میں ترک خواتین کو سیاسی، معاشی، تدریساتی اور کمرشل معنوں میں حقیقی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس حقیقت سے کچھ حلقے اندرون اور بیرون پریشان ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کی دقیانوسی ذہنیت ہے جس کی رو سے وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے وہ لوگوں اور فطرت سے بغاوت ہے”۔ انہوں نے کہا: "ان حقائق کے باوجودچند لوگ کیوں فطرت کی دشمنی کو مذہب و ملت سے جوڑتے ہیں؟ کیوں وہ داعش کے خواتین کے ساتھ نیچ طرز عمل کو اسلام سے جوڑتے ہیں؟ ان کے لیے خواتین اور خواتین کے حقوق کوئی معنی نہیں رکھتے۔ کیوں کہ اگر انہیں عورت کے لیے اٹھنا پڑا تو انہیں اس عمل کے خلاف بھی اٹھنا پڑے گا جو کد پی کے کے، پی وائے ڈی اور داعش میں نوجوان لڑکیوں کو موت کی مشینیں بناتے ہیں۔

تبصرے
Loading...