ٹرمپ S-400 پر ترکی کا مؤقف تسلیم کرتے ہیں، صدر ایردوان

0 85

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ حقیقتِ حال سے آگاہ کیے جانے کے بعد امریکی صدر نے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم پر ترکی کے مؤقف کو تسلیم کیا۔ "میں نے ٹرمپ کو بتایا کہ ترکی کو روس سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے پر کس طرح مجبور کیا گیا اور انہوں نے ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا۔” صدر مملکت انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ اگر امریکا نے F-35 کے حوالے سے مفاہمت کا راستہ اختیار نہ کیا تو انقرہ کو متبادل درکار ہوگا، کیونکہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ ترکی S-400 سے دست بردار نہیں ہوگا۔

ترکی نے 2017ء میں S-400 سسٹم خریدنے کا فیصلہ تب کیا تھا جب امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹمز خریدنے کی کوششیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی تھیں۔

بہرحال، امریکی حکام نے ترکی کو مشورہ دیا کہ ماسکو سے S-400 لینے کے بجائے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدنا ہوگا، کیونکہ بقول اُن کے اوّل الذکر میزائل سسٹم نیٹو سسٹمز سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ترکی نے جواب دیا کہ یہ پیٹریاٹس فروخت کرنے سے امریکا کا انکار تھا کہ جس نے اسے دوسرے ملکوں کا رُخ کرنے پر مجبور کیا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ روس نے بہتر معاملہ کیا ہے کہ جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔

ایردوان نے دہشت گرد PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کو "ساتھی” کہنے پر بھی امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

"PKK/YPG نے بلیک میل کرنے کے لیے شام میں قید داعش کے ہزاروں اراکین رہا کردیے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ امریکا شام میں ساتھی رکھتا ہے، تو یہ ہیں امریکا کے نام نہاد ساتھی،” ایردوان نے کہا۔

صدر نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن کے سرکاری دورے پر ترکی کے خدشات واضح کیے۔

پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) اور اس کا سیاسی بازو ڈیموکریٹک یونین پارٹی (PYD) امریکا اور ترکی کی جانب سے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیم PKK کی شاخیں ہیں۔

"وہ جو علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کو داعش کے خلاف لڑنے والے گروہ کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اب اسی تنظیم کے ہاتھوں ہونے والی عام شہریوں کی اموات کو چھپانے کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں،” صدر ایردوان نے کہا۔ انہوں نے زور دیا کہ "گو کہ ہم نے دہشت گرد تنظیم کے قبضے میں آنے والے اسکولوں، ہسپتالوں، مساجد اور گرجاؤں جیسے مقامات کی تصاویر کے ذریعے اقوامِ عالم کی توجہ حاصل کی، لیکن یہ تصویریں کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ کیونکہ یہاں معاملہ ترکی کے اٹھائے اور نہ اٹھائے جانے والے اقدامات کا نہیں اور نہ ہی اس کا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم کتنی ظالم اور قاتل ہے۔ مسئلہ ہماری جنوبی سرحدوں کے ساتھ دہشت گردوں کی گزرگاہ بنا کر ہمیں گھیرے میں لینے کا ہے اور ہم کسی بھی قیمت پر اور کسی بھی صورت میں اس مذموم منصوبے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

یہ بتاتے ہوئے کہ انہوں نے امریکا کے دورے میں تمام ملاقاتوں میں یہ حقائق سامنے رکھے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے ثالث سمجھے جانے والے امریکی صدر اور سینیٹرز کے سامنے دستاویزات، تصاویر اور ایک فلم پیش کی کہ جس میں PKK/YPG کے چند رہنماؤں کا بھیانک ماضی دکھایا گیا۔ ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ شام میں دہشت گرد تنظیم کے ساتھ امریکا کا اشتراک اچانک ختم نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گرد تنظیم کے لیے شام میں حالات مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ہماری جنگ جاری رہے گی جب تک کہ ترکی کو، خاص طور پر شام اور شمال عراق سے، درپیش خطرے ختم نہیں ہو جائیں گے اور آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا،” صدر ایردوان نے کہا۔

تبصرے
Loading...