"بہترین کام” کرنے پر ٹرمپ کی مصری صدر کو شاباش

0 2,797

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصر کے صدر عبد الفتح السیسی کو "بہترین کام” کرنے پر سراہا ہے حالانکہ انسانی حقوق کے ریکارڈ کی وجہ سے سیسی کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں مصری صدر کے ساتھ گفتگو سے قبل ٹرمپ نے کہا کہ "میرے خیال میں یہ زبردست کام کر رہے ہیں۔ مصر اور امریکا کے درمیان اتنے بہتر تعلقات پہلے کبھی نہ تھے ۔”

مصر امریکا کے بڑے اسٹریٹجک پارٹنرز میں سے ایک ہے ، ایک ایسا عرب ملک جو 40 سال پہلے امریکا کے سب سے بڑے اتحادی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر چکا ہے اور امریکی امداد حاصل کرنے والا اہم ملک ہے۔ البتہ سیسی کو سیاسی مخالفین، خواتین اور مذہبی اقلیتوں کو دبانے کے الزامات کا سامنا ہے۔

رواں ماہ مصری ایک ریفرنڈم میں حصہ لے رہے ہیں جو سیسی کو 2022ء تک توسیع دے سکتا ہے۔ آئینی ترامیم فوج کے سیاسی کردار کو بڑھائیں گی اور عدلیہ کو سیسی کے ماتحت لے آئیں گی۔

سیسی نے 2013ء میں منتخب اسلامی صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا تھا۔ انہوں نے اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف غیر معمولی کریک ڈاؤن کیا اور گزشتہ سال تمام انہیں چیلنج دینے والے تمام ممکنہ افراد کو قید میں ڈال کر یا دباؤ کے ذریعے دوڑ سے باہر کردیا اور دوبارہ منتخب ہوگئے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ آئندہ ریفرنڈم پہلے سے ہی کمزور عدالتی آزادی کو مزید کم کردے گا اور سرکاری و سیاسی حلقوں پر فوجی اثر و رسوخ کو بڑھا دے گا۔ ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے نائب ڈائریکٹر مائیکل پیج نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں پر صدر ٹرمپ کی خاموشی پر کانگریس کو قدم اٹھانا چاہیے اور اس منصوبے کی مذمت کرنی چاہیے۔

گروپ نے یہ بھی کہا کہ مصر کی جانب سے مخالفین کو کچلنے کی کوششوں سے بڑے پیمانے پر غیر منصفانہ مقدمات کی راہ ہموار ہوئی، چاہے وہ فوجی عدالتوں سے یا شہری ججوں کے سامنے۔ گو کہ ایسے بہت سے فیصلے واپس لیے گئے، لیکن 2013ء سے اب تک مصری حکام کم از کم 180 افراد کو سزائے موت دے چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...