ٹرمپ نے اسرائیل نواز ارب پتی کیجانب سے عطاکردہ 20ملین ڈالر انتخابی عطیہ کا قرض اتار دیا

0 459
Sheldon G. Adelson and Donald Trump

کیسینیو کے ارب پتی مالک شیلڈن جی ایڈلسن نے ایک سیاسی کمیٹی کو (جو2016میں ٹرمپ کی حمایت کر رہی تھی ) اس شرط پر 20ملین ڈالر کی خطیر رقم بطور عطیہ دی تھی کہ وہ امریکی صدر بننے کے بعد مقبوضہ بیت ا لمقدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ بنانے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کے وعدے کو اولین ترجیح دینگے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ ایک آرٹیکل میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایڈلسن اور امریکا میں موجود صیہونی لابی کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس کوبطور اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان کریں گے ۔
بدھ کے روز مقبوضہ بیت المقدس بارے اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ پچھلے امریکی صدور اس ایشو پر اپنی الیکشن مہمات کے دوران عوام سے وعدے کرتے رہے مگر منتخب ہونے کے بعد اسکو عملی جامہ پہنانے سے گریزاں رہے جبکہ میں آج باقاعدہ اعلان کرنے جا رہا ہوں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایڈلسن اور دیگر اسرائیل نوازلوگوں نے ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد بیت ا لمقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ بنانے کا اعلان کرنے کے لئے بہت دباؤڈالاتھا۔
ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈکشنر نے بہرحال امریکی صدر کو خطے میں مضبوط امریکی تعلقات کے استوار کرنے تک یہ اعلان کرنے سے منع کرتے ہوئے فی الحال صبر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
آرٹیکل کے مطابق ایڈلسن نے امریکی صدر اور اعلی انتظامیہ کے ساتھ ایک عشایئے میں اس معاملہ کو جلد حل کرنے پر بات چیت کی تھی۔
اس اسرائیل نواز بزنس مین کے اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کے ساتھ قریبی مراسم ہیں اور وہ جواء خانے سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ری پبلکن جماعت کے ممبران پر صیہونی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے اثرانداز ہوتے ہیں ۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایڈلسن اس وقت ٹرمپ کی طرف متوجہ ہوا جب ٹرمپ نے امریکن اسرائیل پبلک افئیرکمیٹی کو صدر بننے امریکی ایمبیسی کو یہودیوں کے، ابدی دارلحکومت ،بیت المقدس منتقل کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔
ٹرمپ کے اس فیصلے کو انکے داماد کشنر کی حمایت حاصل ہے جبکہ وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے مطابق انہوں نے اسکی مخالفت نہیں کی بہرحال وہ کچھ وقت چاہتے تھے۔
دوسری طرف امریکی وزیردفاع جیمز میٹس بہت محتاط انداز سے سامنے آئے اور اس بارے میں کسی بھی قسم کا مؤقف دینے سے گریز کیا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق جیوش ریپبلک کمیٹی کی حمایت کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ واضح ہو گیا ہیکہ امریکی صدر کا فیصلہ سفارتی نہیں سیاسی ہے اور بجز تمام تر بین ا لاقوامی مخالفت اورتنقید کے اس فیصلے کے سیاسی اثرات واضح طورپراسکے مضمرات سے زیادہ ہیں ۔

رپورٹ: سعد سلطان

تبصرے
Loading...