پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے سے انکار کے بعد ‏ترکی کو F-35 نہ دینا نامناسب ہے، ٹرمپ

0 431

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ F-35 کے معاملے پر ترکی کے ساتھ موجودہ رویہ مناسب نہیں، کیونکہ ملک امریکی پیٹریاٹ میزائل خریدنا چاہتا تھا لیکن واشنگٹن نے اُس وقت انکار کردیا تھا۔

ٹرمپ کا یہ تبصرہ وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے موقع پر آیا، جب ترکی روس کے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خرید چکا ہے کہ جس نے امریکا اور دیگر نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔

"ترکی کے ساتھ معاملات کافی پیچیدہ اور سخت ہیں۔ ہم ترک حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں،” انہوں نے اس معاملے پر ترکی کو سزا دینے پر ہچکچاہٹ ظاہر کرتے ہوئے کہا۔

صدر نے کہا کہ امریکا ماضی میں بارہا ترکی کی جانب سے پیٹریاٹ میزائل سسٹمز خریدنے کی درخواست مسترد کر چکا ہے اور یہ پوری صورتحال نامناسب تھی۔

ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اپنے پیشرو براک اوباما کو الزام دیا کہ وہ روس کے S-400 کا بہترین امریکی متبادل پیٹریاٹ میزائل فروخت کرنے میں نااکم رہے جسے رے تھیون کمپنی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کو دوسرا میزائل سسٹم خریدنے پر مجبور کیا گیا۔

"اوباما انتظامیہ نے انہیں پیٹریاٹ میزائل فروخت نہیں کیے۔ انہیں اپنے دفاع کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کسی بھی صورت انہیں نہیں بیچے اور ترکی نے انہیں خریدنے کی بہت کوشش کی اور وہ فروخت کرنے پر راضی نہ تھی اور یہ معاملہ کافی عرصے تک جاری رہا،” ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن نے پیٹریاٹس بیچنے کا فیصلہ تب کیا جب انقرہ پہلے ہی S-400 خریدنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ "پھر اچانک سب ہی ترکی کو یہ کہنا شروع ہوگئے کہ ٹھیک ہے، ہم پیٹریاٹ میزائل بیچیں گے۔”

"روسی میزائل خریدنے کی وجہ سے ہم انہیں اربوں ڈالرز مالیت کے ہوائی جہاز بیچنے کی اجازت نہیں دے رہے۔ یہ صورت حال مناسب نہیں،” ٹرمپ نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی نے 100 سے زیادہ F-35 طیاروں کا بڑا آرڈردیا اور مزید آرڈ کا بھی منصوبہ رکھتا ہے، لیکن امریکا انقرہ کی جانب سے S-400 کی خریداری کے بعد اب لڑاکا طیارے فروخت نہیں کرے کا۔

"ترکی کا رویہ ہمارے ساتھ بہت اچھا ہے، اور ہم اب ترکی کو بتا رہے ہیں کہ کیونکہ آپ کو کوئی دوسرا میزائل سسٹم خرید مجبور کیا گیا ہے اس لیے ہم آپ کو F-35 طیارے نہیں بیچیں گے۔ یہ بہت سخت صورت حال ہے جس کا ان کو سامنا ہے اور ہمارے لیے بھی یہ بہت سخت صورت حال ہے۔” ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور ترکی مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عمل جاری رکھیں گے۔

"ہم اس معاملے پر کام کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن یہ مناسب نہیں ہے۔ وہ (صدر ایردوان) ہمارے پیٹریاٹ میزائل خریدنا چاہے تھے۔ ہم نے نہیں بیچے اور پھر انہوں نے دوسرے ملک یعنی روس کے ساتھ سودا کرلیا، وہ بھی ان میزائلوں کا جو وہ خریدنا چاہتے بھی نہیں تھے اور پھر ہم اچانک بول پڑے کہ اچھا، ٹھیک ہے اب ہم پیٹریاٹس بیچ رہے ہیں۔ اب حقیقت یہ ہے کہ روسی میزائل خریدنے کی وجہ سے ہم انہیں اربوں ڈالرز مالیت کے جہاز نہیں بیچ رہے، یہ بالکل بھی مناسب صورت حال نہیں۔”

امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری میں ناکامی کے بعد انقرہ نے 2017ء میں روسی S-400 خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

امریکا حکام نے ترکی پر زور دیا کہ وہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل خریدے اور ان کا کہنا تھا کہ روسی سسٹم نیٹو کے سسٹمز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا اور F-35 جوائنٹ اسٹرائیک فائٹرز کی خامیاں روس کی نظر میں لے آئے گا۔ البتہ ترکی کا کہنا ہے کہ S-400 نیٹو کے سسٹمز میں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ اس اتحاد کے لیے خطرہ نہیں بنے گا۔

تبصرے
Loading...