جو بائیڈن "ناسمجھ” ہیں، وہ ایردوان جیسے ہوشیاروں کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

0 2,708

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق نائب صدر اور موجودہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن کو "ناسمجھ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ترک صدر سمیت مختلف عالمی رہنماؤں جیسے "ہوشیار عالمی رہنماؤں” کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔

"فوکس اینڈ فرینڈز” کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "آپ کا مقابلہ ایسے لوگوں سے ہے جو بہت تیز ہیں۔ آپ دراصل شطرنج کے ورلڈ کلاس کھلاڑیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ میں ان سب کو جانتا ہوں۔ ہم ان کے ساتھ بخوبی کام کر رہے ہیں، جیسا کہ ترکی کے ایردوان ہیں۔ جو بائیڈن اتنے اچھے نہیں ہیں کہ ایسے رہنماؤں کا سامنا کر پائیں۔”

بائیڈن کو ترکی کے حوالے سے اپنے حالیہ متنازع بیان کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ان کا ایک کلپ وائرل ہوا ہے جس میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ ترکی میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں اور انہوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ ترکی میں 2023ء کے انتخابات میں وہ ایردوان کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے "حزب اختلاف کی قیادت” کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم ترک سیاسی جماعتوں میں موجود عناصر کی مدد کر سکتے ہیں اور انہیں تقویت پہنچا سکتے ہیں تاکہ وہ ایردوان کو شکست دینے کے قابل ہو جائیں۔ بغاوت کے ذریعے نہیں، تختہ الٹنے کے ذریعے نہیں بلکہ ایک انتخابی عمل کے ذریعے۔”

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے بائیڈن کے بیان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ترکی میں حکومت اور صدر کی تبدیلی کا فیصلہ صرف ترک قوم کر سکتی ہے، نہ ہی امریکا اور نہ ہی کوئی دوسرا ملک۔ ہم اس بیان کو پوری شدت کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔” چاؤش اوغلو نے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ بائیڈن کا بیان "جہالت” پر مبنی ہے۔ حیرت ہے کہ ایسا "جاہلانہ تبصرہ” کرنے والا شخص امریکا میں صدارتی امیدوار ہے۔

ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ ترکی کے حوالے سے جو بائیڈن کا تبصرہ مکمل طور پر جہالت، تکبّر اور منافقت پر مبنی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایردوان کے حوالے سے مختلف عالمی رہنما اُن سے مدد کے طالب ہیں کیونکہ ترک رہنما صرف میری ہی سنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کئی ملکوں کے رہنماؤں نے پچھلے ہفتے مجھ سے بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کیا کہ کیا آپ ایردوان سے بات کر سکتے ہیں؟” ٹرمپ نے کسی رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ "میں نے ان سے پوچھا کہ میں ہی ترک صدر سے کیوں بات کروں؟ تو ان کا جواب تھا کہ "وہ آپ ہی کی سنتے ہیں، ہماری نہیں سنتے۔” میں نے سوال کیا کہ "صرف میری ہی کیوں؟ اس لیے کہ میں امریکا کا صدر ہوں؟” تو اُن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ "نہیں، بلکہ آپ کی شخصیت کی وجہ سے، وہ صرف ٹرمپ کی سنتے ہیں۔ میں یہ سرِعام تو نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن حقیقت یہی ہے۔”

امریکی صدر نے یہ تو واضح نہیں کیا کہ وہ کن رہنماؤں کی بات کر رہے ہیں، لیکن یقیناً یہ کالز مشرقی بحیرۂ روم میں جاری کشیدگی کے حوالے سے ہو سکتی ہیں کہ جس میں امریکا کے مختلف اتحادی یونان، فرانس اور مصر بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...