پوتن سے ملاقات میں سو مت جانا، ٹرمپ کی بائیڈن کو چٹکی

0 1,194

امریکی صدر جوبائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ امریکی سیاسی تاریخ کا ایک دلچسپ باب شمار کیا جائے گا۔ اس کا اختتام اگرچہ بہت ہی بھیانک طریقے اور بے انصافی سے ہوا کیونکہ اس کھیل کے جوبن پر سابق صدر ٹرمپ کے فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ کر دئیے گئے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ رکے نہیں۔ حال ہی میں ان کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکی صدر جوبائیڈن اور روسی صدر پوتن کی ملاقات میں ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہی از راہِ مذاق چٹکی کاٹتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملاقات میں سو مت جانا، بلکہ پوتن سے گرم جوشی سے ملنا۔ یاد رہے کہ انتخابی معرکے کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مد مقابل جوبائیڈن کو "سلیپی جوئے” کا لقب دیا تھا۔

موجودہ امریکی صدر جوئی بائیڈن 78 سال سے زائد ہو چکے ہیں اور امریکہ کی تاریخ کے سب سے زیادہ معمر صدر قرار دئیے جاتے ہیں۔ ان کے سرکاری اجلاسوں سمیت مواقعوں پر سونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ باراک اوباما دور میں وہ نائب صدر تھے لیکن اوباما کی بجٹ تقریر کے دوران سوتے دیکھے گئے۔ اس سے زیادہ دلچسپ کہ وہ لائیو شو میں ہی سو گئے۔ یہ تو ان کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی مثالیں ہیں جس کی وجہ سے ٹرمپ نے انتخابی مہم میں انہیں "سلیپی جوئے” پکارتے تھے لیکن اقتدار کے بعد بھی ان کی عمر ان کی رکاؤٹ بنتی نظر آئی۔ کچھ عرصہ ان کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ جہاز پر چڑھتے ہوئے بار بار گرتے نظر آئے کیونکہ ہوا تھوڑی سی تیز چل رہی تھی۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ جب وہ صدر تھے تو انہوں نے پوتن کے ساتھ ایک زبردست اور بہت ہی نتیجہ خیز میٹنگ کی تھی جس کے بعد پوتن اور روس، امریکہ کا احترام کرتے تھے۔

امریکہ اور روس کے تعلقات، امریکی سیاست کا ایک گرم ترین موضوع رہا ہے اور اسی لیے امریکی صدر کی روسی صدر سے ملاقات کو اہم سمجھا جاتا ہے اور کئی پہلوؤں سے تبصرے اور تقابل کیے جاتے ہیں۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روسی مدد کے ساتھ الیکشن جیتے تھے لیکن کئی ماہرین اور تجزیہ نگار اس رائے کو مسترد کرتے ہیں اور امریکی نظام کو اتنا کمزور نہیں سمجھتے کہ کوئی بھی بیرونی طاقت اس پر اثر انداز ہو سکے۔ اس سیاسی اور عالمی چبقلش کے باوجود روس امریکہ کا 26واں بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے جن کی 2019ء میں کل ٹریڈ 28 بلین ڈالرز کی تھی۔ روس نے امریکہ کو 22 اعشاریہ 3 بلین ڈالرز کی اشیاء بیچیں جبکہ امریکہ نے روس کو صرف 5 اعشاریہ 8 بلین ڈالرز کی ٹریڈ کی۔

امریکی نومنتخب صدر جوبائیڈن 16 جون کو جینیوا میں روسی ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔

تبصرے
Loading...