ترکی کی معیشت کو تہس نہس کردیں گے، امریکا دھمکیوں پر اتر آیا

0 297

شمال مشرقی شام سے امریکی فوج کے انخلاء کے حیران کُن فیصلے کے بعد امریکا نے ترکی کو دھمکی دے ڈالی ہے کہ اگر اُس نے "اپنی حدیں پار کیں” تو وہ اس کی معیشت کو تہس نہس کردیا جائے گا۔

شمالی شام پر ترکی کی کارروائی کے لیے ہری جھنڈی دکھانے کے بعد کئی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید سہہ کر امریکی صدر ٹوئٹر پر پھٹ پڑے۔ انہوں نے چند ٹوئٹس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انقرہ نے "اپنی حدود” سے باہر اقدامات اٹھائے تو اس کی معیشت کو تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی فوج کے انخلاء کے فیصلے کو صدر ٹرمپ کے ری پبلکن پارٹی کے اتحادیوں تک نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ کرد باغی شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے امریکا کے اہم حلیف تھے، جن کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ فیصلہ "پیٹھ پر خنجر گھونپنے کے مترادف ہے۔”

امریکا شام میں تقریباً ایک ہزار فوجی رکھتا ہے، جن میں سے دو درجن کے قریب اہلکاروں کو سرحدوں سے ہٹا لیا گیا ہے۔

قبل ازیں، امریکا کا کہنا تھا کہ وہ شمالی شام میں ترکی حملے کی راہ میں کھڑا نہیں ہوگا۔ یہ اعلان امریکی رویّے میں اچانک تبدیلی کی علامت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین سمجھتے ہیں کہ امریکا کا یہ فیصلہ علاقے میں داعش کے دوبارہ اٹھنے اور کرد دستوں پر ترکی کے حملے کی صورت میں نکل سکتا ہے کہ جنہیں ترکی دہشت گرد سمجھتا ہے۔ امریکی سینیٹر لِنزے گراہم، جنہیں ٹرمپ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے، کہا کہ اگر ترکی نے شام پر حملہ کیا تو وہ اس پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے قانون سازی کروائیں گے اور کرد دستوں پر حملے کی صورت میں اسے نیٹو سے نکلوائیں گے۔ لیکن ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ ترکی اس فیصلے کا "ناجائز” فائدہ نہ اٹھائے کہ جو انہوں نے پنٹاگون اور محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیداروں کے رائے کے خلاف اٹھایا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا نے پچھلے سال چند ترک مصنوعات پر ٹیرف بڑھا دیا تھا اور مختلف معاملات پر دونوں نیٹو اتحادیوں کے مابین تعلقات میں سرد مہری پیدا ہوگئی ہے۔

ترک وزارت دفاع کاکہنا ہے کہ آپریشن کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور سیف زون کا قیام شامی باشندوں اور خطے میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے۔ ترکی سرحدی علاقے میں کرد باغیوں کے خلاف کارروائی کرکے اپنے ملک مقیم 36 لاکھ شامی مہاجرین میں سے 20 لاکھ کے لیے علاقے میں ایک ‘سیف زون’ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ ان شامی باشندوں کی واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔

تبصرے
Loading...