ترک مارکیٹ کو کریش کرنے کی کوشش کرنے والے ٹرمپ کو امریکی مارکیٹ کریش ہونے کا خوف

0 2,965

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور عالمی لین دین کی کرنسی ڈالر ہے- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد کے بعد امریکہ اپنے پیٹرو ڈالر کو دنیا کے بہت سے ممالک کے خلاف بطور "ہتھیار” استعمال کر رہا ہے- گزشتہ دنوں ٹرمپ نے ترکی کی اہم ترین ایکسپورٹ کی قیمتیں پچاس فیصد تک بڑھا دیں- جس کی وجہ سے ترکش کرنسی لیرا مارکیٹ میں بیٹھ گئی اور 40 فیصد تک اس کی قدر میں کمی آئی- مزید چند دن تک لیرا اس دباؤ میں رہتا تو یہ ریڈ لائن سے نیچے چلا جاتا اور ترکی کی پوری مارکیٹ کریش ہو جاتی- صرف چند دنوں میں لیرا سستا ہونے سے غیر ملکی سیاحوں نے استنبول کے شاپنگ مال کم داموں پر لوٹنا شروع کر دئیے اور لاکھوں سیاحوں نے ترکی کا رخ کیا تاکہ لیرا کی کم قیمت سے فائدہ اٹھایا جائے-

لیکن بھلا ہو، عالم اسلام خصوصاً قطر اور پاکستان کا اور پھر یورپی یونین کا جس نے ترکی کو اعتماد دیا- ترکی نے چند جاندار فیصلے کئے، چین، روس، میسکیکو اور ایران سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کرنے کا اعلان کیا، اہم امریکی مصنوعات کے قیمتوں میں اضافے کر دیا- ترکش سنٹرل بنک نے معاشی فیصلے کیے اور لیرا نے 22 فیصد واپس آ کر ترک مارکیٹ کو کریش ہونے سے بچا لیا-

اسی بحران میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ایک بیان کو خاصی مقبولیت حاصل جس میں انہوں نے امریکہ کے حوالے سے کہا کہ "تمہارے پاس ڈالر ہیں تو ہمارے پاس اللہ ہے”- امریکی اخبارات نے اس کا اچھا خاصا مزاق اڑایا- لیکن حال میں امریکی مارکیٹ پر بڑھتا دباؤ مسب الاسباب ذات کی موجودگی کا پتا دیتا ہے- وہی ڈونلڈ ٹرمپ جس نے چند ہفتے قبل ترکش مارکیٹ کو کریش کرنے کی کوشش کی وہی آج امریکی مارکیٹ کے کریش ہونے کی دہائی دے رہا ہے- فوکس نیوز میں انٹرویو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر میرا مواخذہ کیا گیا تو امریکی مارکیٹ کریش کر جائے گی-

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سابق وکیل مائیکل کوہن نے اپنے ایک حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ انھیں ڈونلڈ ٹرمپ نے خود صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران میں مالیاتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہدایت کی تھی۔ان کے اس انکشاف کے بعد صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

وہی ڈونلڈ ٹرمپ جو رعونت سے ترکی کو دھمکیاں دے رہا تھا آج ایک بڑی پریشانی کا سامنا کر رہا ہے-

تبصرے
Loading...