تونس میں "بغاوت”، صدر نے حکومت کو برطرف کر دیا

معاشی و آئینی بحران کے بعد ایک نئے سیاسی بحران نے بھی جنم لے لیا

0 733

تونس کے صدر قیس سعید نے حکومت کو برطرف کر دیا ہے جس کے بعد ملک کے بڑے شہروں میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ فیصلے کے مخالفین اسے ‘بغاوت’ کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

گو کہ صدر قیس سعید کا کہنا ہے کہ وہ نئے وزیر اعظم کی مدد سے اختیارات حاصل کریں گے لیکن درحقیقت یہ حالات 2011ء میں انقلاب کے بعد تونس کے جمہوری نظام کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

اِس وقت دارالحکومت اور دیگر شہروں میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر ہے، جو اِس فیصلے کے حق میں نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک کمزور حکومت اور منقسم پارلیمان کے خلاف صدر کے ان اقدامات کی حمایت کتنی ہے؟ فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ البتہ صدر قیس نے پہلے ہی کسی پُر تشدد رد عمل پر تنبیہ کی ہے کہ "میں انہیں خبردار کرتا ہوں جو اسلحہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو بھی گولی چلائے گا، مسلح افواج اس کو گولی سے جواب دیں گی۔”

اس بیان کے چند ہی گھنٹوں بعد فوجی گاڑیوں نے پارلیمان کی عمارت کو گھیر لیا جبکہ عوام کی بڑی تعداد اس کے سامنے جشن مناتی نظر آ رہی ہے۔

سال 2011ء میں عرب بہار کا واحد ‘مثبت نتیجہ’ تونس ہی تھا کہ جہاں جمہوریت کی راہ ہموار ہوئی لیکن آئندہ سالوں میں معاشی جمود، بد عنوانی، سرکاری امور میں کمزوری اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے عوام کو سیاسی نظام سے بیزار کر رکھا تھا، پھر جو کسر رہ گئی تھی وہ کووِڈ-19 کی وبا نے پوری کر دی۔

تونس کے صدارتی انتخابات، نوخیز جمہوریت کے تحفظ میں اگلا قدم

مظاہرین کے غم و غصے کا ہدف اعتدال پسند النہضہ پارٹی ہے، جو پارلیمان میں اکثریت رکھتی ہے۔ انقلاب سے قبل النہضہ پر پابندی تھی لیکن 2011ء سے وہ مستقل سیاسی کامیابیاں سمیٹ رہی ہے اور پے در پے اتحادی حکومتوں کی رکن رہی ہے۔ اس کے رہنما اور پارلیمان میں اسپیکر راشد الغنوشی نے صدر قیس کے فیصلے کو "انقلاب اور آئین کے خلاف بغاوت” قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں "ہم اداروں کے استحکام پر یقین رکھتے ہیں اور النہضہ کے حامی اور تونس کے عوام انقلاب کا دفاع کریں گے۔”

قیس سعید کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات آئین کی دفعہ 80 کے مطابق ہیں۔

موجودہ صدر اور پارلیمان دونوں کا انتخاب 2019ء میں عوامی ووٹ سے ہوا تھا۔ پارلیمان بڑی حد تک تقسیم ہے اور کسی سیاسی جماعت کو ایک چوتھائی اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔ صدر قیس سعید ایک آزاد امیدوار ہیں اور ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں۔ انہوں نے اس پیچیدہ نظام کی اصلاح کا وعدہ کرتے ہوئے اپنے عہدے کا حلف لیا تھا۔ وزیر اعظم ہشام مشیشی نے گزشتہ موسم گرما میں اقتدار سنبھالا تھا۔

صدر اور وزیراعظم کے مابین کشیدگی اور پھر کووِڈ کی وجہ سے پیدا ہونے والا معاشی بحران، جبکہ سات سالوں سے آئینی معاملات کے عدالت میں پھنس جانے کی وجہ سے پہلے سے جاری آئینی بحران سب نے مل کر ملک میں حالات کو گمبھیر کر دیا ہے۔

تبصرے
Loading...