تونس کے صدارتی انتخابات، نوخیز جمہوریت کے تحفظ میں اگلا قدم

0 524

اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات 2011ء کے انقلاب کے بعد شمالی افریقہ کے ملک تونس میں جنم لینے والی جمہوریت کے تحفظ میں اگلا قدم ہیں۔ یہ "انقلابِ یاسمین” کے بعد تونس میں ہونے والے دوسرے جمہوری صدارتی انتخابات ہیں کہ جن میں اگلے صدر کے لیے 26 امیدوار کھڑے ہوئے ہیں۔

اتنے زیادہ امیدواروں کی موجودگی میں کوئی واضح طور پر کامیاب ہوتا نظر نہیں آ رہا، گرچہ وزیر اعظم یوسف شاہد کی جانب سے دو امیدواروں میڈیا کی اہم شخصیت نبیل قروی اور اسلام پسند جمہوری پارٹی حرکت النہضہ کے عبد الفتاح مورو کو قید میں ڈالنے کا معاملہ زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے۔ تقریباً 70 لاکھ افراد اگلے پانچ سال کے لیے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے۔ مبصرین کو توقع ہے کہ اگر کسی امیدوار کو واضح اکثریت نہ مل سکی تو حتمی فیصلے کے لیے رن آف ووٹ ہوگا۔

یہ دوسرا مرحلہ اکتوبر میں پارلیمانی ووٹ کے بعد نومبر کے اوائل میں طے شدہ ہے۔

ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت نہضہ نے اگست میں صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار کے نام کا اعلان کیا تھا، جو انقلابِ 2011ء کے بعد ملک کی جمہوریت میں تبدیلی کے بعد اس عہدے کے لیے امیدوار نامزد کرنے کا پہلا موقع تھا۔ جماعت کے نائب صدر 71 سالہ مورو 15 ستمبر کو طے شدہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں کہ جو پچھلے مہینے باجی قائد السبسی کے انتقال کی وجہ سے وقت سے دو مہینے پہلے منعقد ہو رہے ہیں۔ نہضہ کے رہنما راشد الغنوشی نے کہا کہ انہیں "جمہوریت، جمہوریہ اور انقلابِ تونس پر تحریک کے اظہارِ اعتماد” کے طور پر منتخب کیا گیا۔ غنوشی نے جنوب مغربی شہر قفصہ میں ہونے والی ایک عوامی ریلی کے دوران مورو کو صدارت کے لیے ایک "سنجیدہ امیدوار قرار دیا اور کہا کہ "تحریک تونس میں تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہے۔ غنوشی 2011ء کے انقلاب کے بعد ملک میں جمہوری عمل کی ایک بڑی طاقت کے طور پر دیکھی جاتی ہے اور اگلے مہینے پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار کھڑی ہو رہی ہے۔

السبسی کی موت کے بعد تونس میں طاقت کے خلاء پیدا ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ ایسی شخصیت سامنے آئے جس پر تمام جماعتوں کو اتفاق نہ ہو۔ ملک کو اس وقت معاشی اور سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے جبکہ داعش سے تعلق رکھنے والے گروپوں کی موجودگی ملک کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔

واضح رہے کہ تونس نسبتاً جمہوری ماحول میں اپنے اوّلین انتخابات منعقد کر چکا ہے، اس مرتبہ بھی قدامت پسند اور لادین امیدوار دوڑ میں شامل ہیں جبکہ عرب بہار کے بعد خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں تونس پر دباؤ بھی کم ہے۔

2011ء کے انقلاب کے بعد آمر صدر زین العابدین بن علی کے اخراج کے بعد سے ملک جمہوری راستے پر گامزن رہنے کی جدوجہد کر رہا ہے جس کے بعد مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ میں کئی انقلابات اور تنازعات نے جنم لیا۔ عرب بہار کے ممالک میں تونس اس لیے منفرد ہے کیونکہ یہاں بیرونی عناصر کی مداخلت اور اثرات سے بڑی حد تک پاک انتخابات ہوئے جبکہ دیگر عربوں ملکوں میں ایسا نہیں ہوا۔ ملک کی قدامت پسند اور لادین تحاریک اور جماعتیں براہ راست غیر ملکی مداخلت سے دُور رہنے میں کامیاب رہیں۔ جبکہ لیبیا، شام اور یمن بدستور خانہ جنگی کی زد میں ہیں کہ جہاں کئی مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں مصروفِ عمل ہیں۔ مصر کو 2013ء کے بعد ایک سخت گیر حکومت کا سامنا ہے کہ جس کے صدر عبد الفتاح السیسی نے ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مُرسی کا تختہ الٹا، جو پچھلے مہینے ایک مقدمے کے دوران انتقال کرگئے۔ اپنی تمام تر کمزوری کے باوجود تونس ایک جمہوری نظام کی جانب قدم بڑھانے میں کامیاب ہوا۔

تبصرے
Loading...