ترک فوج نے وائے پی جی سے مزید 3 قصبے آزاد کروا لیے، کل 1715 دہشتگرد ہلاک

0 895

منگل کے روز دی جانے والی ملٹری بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ عفرین آپریشن میں اب تک 1715 دہشتگرد "بے اثر” کئے جا چکے ہیں۔

ترک فوج کی جانب سے "بے اثر” کا لفظ استعمال کرتی ہے جس میں گرفتار زندہ یا مردہ دہشتگرد شامل ہوتے ہیں یا پھر وہ جنہوں نے دوران جنگ ہتھیار ڈال دئیے ہوں۔ تاہم عمومی طور پر اس اصطلاح کا استعمال کسی آپریشن میں مرنے والوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

ترک خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق ترک فوج اور آزاد شامی فوج کے جوانوں نے زیتونک، ثورانی اور حیانی کے قصبات پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی دہشتگردوں سے آزاد کروائے۔

آپریشن شاخِ زیتون ترکی کی طرف سے شامی صوبہ عفرین میں پی کے کے/پی وائے ڈی/وائے پی جی/کے سی کے اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف 20 جنوری کو شروع کیا گیا تھا۔

ترک جنرل اسٹاف کے مطابق آپریشن کا مقصد ترک سرحدوں کے ساتھ خطے میں سیکورٹی اور استحکام قائم کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ظلم اور بربریت سے شامی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قانون اور یو این سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ترکی کے حقوق کے تحت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کے لیے قدم اٹھانے کا حق ہے تاہم اس سلسلے میں شام کی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔

ملٹری نے کہا ہے کہ یہ بات "انتہائی اہمیت” رکھتی ہے کہ اس آپریشن میں کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔

تبصرے
Loading...