تُرکِ دانا – ڈاکٹر شمس الحق حنیف (حصہ اوّل)

0 1,364

حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے ۱۹۲۴ء میں خلافت عثمانیہ کے سقوط پر فرمایا تھا:

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحرپیدا

اور پھر اس کے بعد پیش گوئی فرماتے ہوئے وہ یوں فرما چکے تھے، کہ

عطاء مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے

شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نطقِ اعرابی

اور آج ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں کہ ترکی میں رائے عامہ کے فکری بلوغ اور پختگی کے نتیجے میں انہی کے آزادانہ ووٹوں کی غالب اکثریت سے منتخب ہوکر ترکی کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کا جو کام حق تعالیٰ محترم صدر ترکی رجب طیب ایردوان سے لینے والا ہے اس ‘شکوہِ ترکمانی’ میں ‘ذہنِ ہندی’ (برصغیر کے مسلمانوں کی صلاحیت وقابلیت اور ساتھ برما کے مسلمانوں کی دعاؤں)کے ساتھ ‘نطقِ اعرابی’ (بالخصوص مصر، غزہ اور فلسطین کے مسلمان دیگر عرب مسلمانوں کی طرح انہیں اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں) بھی شامل ہے، انہی سطور میں انقرہ واستنبول کے افق پر اس ابھرتے ہوئے سورج کی روشنی کا کچھ تذکرہ ہے۔

میں نہ ادیب ہوں نہ لکھاری البتہ اپنے دل کی ترجمانی کرتے ہوئے آپ کو بھی اپنے احساسات میں شریک کرنا اپنی سعادت سمجھتا ہوں اس لئے یہ پیام صبحِ نو آپ کو دینا ضروری خیال کرتا ہوں ورنہ

کہاں میں اورکہاں یہ نگہتِ گل

نسیم صبح تیری مہربانی

ترکی کی عثمانی سلطنت جو بعد میں عثمانی خلافت کہلائی اور جس کے مایہ ناز خلیفہ سلطان محمد الفاتح ؒنے محمدرسول اللہ ﷺکی پیش گوئی کے مطابق بازنطینی اور بعد میں قسطنطینی مرکز قسطنطنیہ کو۲۹ مئی ۱۴۵۳؁ میں فتح کیا اور جس نے مسلمانوں کی مرکزیت قائم رکھنے میں اہم اور بنیادی کردار کیاوہ تاریخ کاروشن باب ہے۔

خلافت اور خلیفہ کی اصطلاح اور اس کی معنویت کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ خلیفہ کے عنوان سے ہی اللہ تعالیٰ نے انسانِ اول آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا، انبیائے کرامؑ کے بعد رسول اللہ ﷺکے چاروں خلفائے راشدین خلفائے رسولﷺ کہلائے، بعد میں اُموی، عباسی اور عثمانی خلفاء کی خلافت میں کئی خرابیوں کے باوجود کم از کم دو باتیں ایسی تھیں کہ ان کی اہمیت سے انکار نری جہالت ہی ہوسکتی ہے۔

پہلی بات یہ کہ خلافت جب تک قائم تھی چاہے جتنی بھی برائے نام تھی ا س سے مسلمانوں کے اندر دین وسیاست کی دوئی اور دین ودنیا کی تقسیم کے شیطانی فلسفے کا راستہ بند پڑا تھا، خلافت وحکومت اور اجتماعیت اسلام کا لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا اور اس حوالے سے کسی نظریاتی گمراہی کے در آنے کے مواقع بہت محدود ہوتے تھے ، پوری اسلامی تاریخ میں خلفائے بنی امیہ، بنی عباس اور خلفائے آل عثمان کے غلط کاموں پر تنقید اور ان کی اصلاح کی کوششیں تو جاری رہی ہیں لیکن کسی ایک مسلمان مفکر نے بھی خلافت کے ادارے اور منصب کو اسلام سے الگ اور غیر متعلق نہیں سمجھا۔

دوسری بات بھی کچھ کم اہم نہیں اور وہ یہ کہ دنیائے کفر کو ہمیشہ اس بات کا خطرہ رہتا تھا کہ ایک دفعہ اگر مسلمانوں کا خلیفہ ان کے خلاف اعلانِ جہاد کردے تو دنیا کے تمام مسلمان اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک ملی ودینی فریضہ کے طور پر ان کے خلاف میدان میں اتریں گے، اسی لئے تو خلافت عثمانیہ کے خلاف مشرق ومغرب کی پوری غیر مسلم دنیا ہاتھ دھو کر پیچھے پڑی ہوئی تھی اور خلافت کے خاتمے سے کم کسی چیز پر راضی نہیں تھی حالانکہ اس وقت وہ ایک نہایت کمزور اور بظاہر بے ضرر سی حالت میں تھی، لیکن ان سے صرف یہ برائے نام خلافت بھی برداشت نہیں ہورہی تھی، لیکن اب تو مسلمان اپنی بے علمی اور غیروں کی اندھی تقلید میں اس ادارے کی اہمیت اور افادیت کو تقریباً بھول ہی چکے ہیں۔

قسطنطنیہ خلافتِ عثمانی کا دارالخلافہ بننے کے بعد سے استنبول کہلایا، یہ لفظ دراصل اسلام بول تھا جو رفتہ رفتہ عوامی تلفظ کے غلبہ سے استنبول بنا۔سلاطین آل عثمان جو عثمان خان اوغلو سے لے کر سلطان عبدالمجید تک چھ صدیوں سے زیادہ مسلم دنیا کے حکمران رہے، ان میں ملوکیت کی کمزوریوں کے باوجود امت مسلمہ کے لئے بہت خیر اور بھلائی تھی، جس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں۔

ترکی پر فتح قسطنطنیہ کے بعدکئی انقلاب آئے لیکن ۱۹۲۴ء میں مصطفی کمال اتاترککےجنگ عظیم کے بعد ترکی کے لئے مفید خدمات انجام دینے کے باوجود اس کے کفریہ اقدامات نے پورے ترکی کو انکی تاریخ سے کاٹ کر ان کی زبان کے طرز تحریر کو عربی فارسی جیسے رسم الخط سے تبدیل کرکے انگریزی رسم الخط میں بدل دیا، اور یوں پوری قوم کو اپنے ماضی سے کاٹ کر بیک جنبش قلم انہیں جاہل اور مغرب کا غلام بنایا اور دوسری طرف اذان اور قرآن کو عربی زبان میں پڑھنے پر پابندی لگا کر اسے ترکی میں پڑھنے کا حکم جاری کیا، مدارس، داڑھی، حجاب اور اسلامی شعائر پر پابندی کے احکام نافذ کردیئے اور اس میدان میں وہ تاریخ کے تمام دشمنانِ اسلام سے بھی بازی لے گیا،وہ قرآن کا مذاق اُڑایا کرتا تھا، اور کہتا تھا کہ (نعوذ باللہ) تین اور زیتون کی باتیں کرنے والی کتاب ہمارے مسائل حل نہیں کرسکتی۔

(جاری ہے)

تبصرے
Loading...