تُرکِ دانا – ڈاکٹر شمس الحق حنیف (حصہ دوم)

0 1,516

رجب طیب ایردوان استنبول کے مئیر(مئیر کو ترکی میں والی کہتے ہیں) سے وزارت عظمیٰ اور پھر صدارت تک کا سفر طے کرکے اب ترک اکثریت کے مقبول ترین لیڈر ہیں، ان کے دشمنوں اور بدخواہوں کے مقابلے میں ان کے مداحوں کی غالب اکثریت ہے اور مغرب کے پیٹ میں زیادہ مروڑ اس بات سے بھی ہے کہ ان کو ووٹ دینے والوں اور ان کے اوپر جان نچھاور کرنے والوں میں جوانوں اور مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد زیادہ ہے جو طیب ایردوان کی اسلامائزیشن کو اپنی عصمت و نسوانیت کے تحفظ کی ضمانت سمجھتی ہیں۔

اس کا پہلا حصہ یہاں پڑھا جا سکتا ہے:

تُرکِ دانا – ڈاکٹر شمس الحق حنیف (حصہ اول)

16 جولائی 2016ء کی رات کوفوجی بغاوت کے خلاف نہتے ترکی عوام میں ایک کثیر تعداد بالکل نئے اور جوان خون کی تھی جس میں مردوں سے خواتین کی تعداد کسی صورت کم نہیں تھی، حتیٰ کہ اسی بغاوت کے آگے سینہ سپر ہونے والوں میں وہ بھی شامل تھے جو ایردوان سے سیاسی اختلاف رکھتے تھے لیکن ان کی شخصیت کے قائل اور فوجی حکومت کی خرابیوں اور تباہیوں سے واقف تھے، اس بغاوت میں 153 سے زیادہ معصوم شہری شہید ہوئے جن کی تصویریں والیٔ استنبول کے دفتر کے باہر ایک بڑے بورڈ پر لگی ہوئی ہیں اور جن کے ورثاء کو آج وہاں کی حکومت میں انتہائی اعزاز واکرام سے نوازا جاتا ہے۔

میرے ایک دوست نے استنبول میں مجھے بتایا کہ ایک جوان نے جو بغاوت کی رات فوج کے سامنے سینہ سپر کھڑا تھا کہا کہ میں نے اپنے دادا مرحوم کو خلافت کے خاتمے پر روتے روتے زندگی گزارتے دیکھا، پھر میں نے اپنے والد کو عدنان مندریسؒ کی شہادت پر آنسو بہاتے دیکھا اب میں نہیں چاہتا کہ طیب ایردوان کی بابرکت حکومت کے خاتمے پر آنسو بہاؤں۔

طیب ایردوان  نے استنبول کو اور پوری ترکی قوم کو زمین سے ثریا پر پہنچادیا، اداروں کی مضبوطی سے لیکرروزگار کی فراہمی تک اور کرنسی کو زیرو سے اُٹھا کر اسے کئی ترقی یافتہ ملکوں کے برابر لایا اگر شام کے مہاجرین اور  16جولائی کے جھٹکے نہ ہوتے تو لیرا ڈالر اور یورو کو چھو جاتابلکہ پیچھے چھوڑ جاتا، پھر بھی وہ ریال اور درہم کے مقابلے میں مستحکم ہے۔

مجھے طیب ایردوان کے ساتھ عقیدت اور اس کے ساتھ جواز کی آخری حد تک محبت استنبول لے گئی، جہاں میں نے بچشم سر دیکھا کہ سکول کالج کی بچیاں سکارف پہن کر اس پر فخر کرتی نظر آتی ہیں، جوان بچے چہروں کو داڑھی سے مزین کیے ہوئے ہیں، مسجدیں نماز ، ذکر ، تلاوت اور دروس سے آباد ہیں، اور تعلیم کے میدان میں جوانوں کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے، استنبول یونیورسٹی میں ۸۰ تا ۹۰ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔بیک آرڈر طیب ایردوان  نے ۸۰یونیورسٹیاں قائم کیں جہاں اسلامیات کی باقاعدہ فیکلٹیاں ، الٰہیات کے نام سے قائم ہیں جن میں قرآن و حدیث ، فقہ، علم کلام، اور عربی ادب وغیرہ کے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ ترکی میں میری موجودگی کے دوران انہوں نے استنبول میں جامعہ ابن خلدون کے نام سے ایک اور یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا ۔

انقلاب بذریعہ تعلیم ان کاطریقہ کار ہے، وہاں انگریزی جاننے والے نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن استنبول کی ترقی اور صفائی یورپ کے کسی شہر سے کم نہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی زبان میں تعلیم انہیں غلامی اور تقلید مغرب سے نکالنے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔
وہاں لوڈ شیڈنگ نامی جانور سے لوگ بالکل واقف ہی نہیں حالانکہ وہاں بجلی ہمارے ملک جیسے پانی سے نہیں بنتی۔ ۱۵ دنوں کے قیام میں میں نے استنبول اور طرابزون جیسے شہروں میں ٹریفک جام کہیں نہیں دیکھا، ہر چیز کی فراوانی تھی، ملاوٹ وہاں ناقابلِ معافی جرم ہے۔

قومی غیرت کا جو سبق طیب ایردوان  نے اپنی قوم کو دیا اس پر پوری امت کو فخر کرنا چاہیئے، ہماری عزت و وقارکی خاطر اور اسلام اور پاکستانی قوم پر غیرت کرکے بنگلہ دیش کے باشندوں کو اسلام اور پاکستان سے محبت کی سزا پھانسی کی صورت میں دینے پر وہاں سے اپنے سفیر کو واپس بلایا جس کا ہمارے غلام بن غلام حکمرانو ں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ برما کے مسلمانوں کی انہوں نے خبر گیری کی، فلسطین اور غزہ کے مظلوموں کی مدد کو وہ فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں، اور وہ اپنے آپ سے زیادہ ایردوان کی قوت میں اضافے کے لئے دعا گو ہیں، فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں کی مدد اور تعاون کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے غلاموں، مصر اور امارات کی حکومتوں نے اب وہاں حماس کے بجائے دحلان کو وہاں کی حکومت دلانے کی سازشیں شروع کی ہیں تاکہ اسرائیل کے مقاصد پورے ہوں اور وہاں ترکی کے کردار کو ختم کیا جائے۔

محترم رجب طیب ایردوان روس اور امریکہ دونوں سے برابری کی سطح پر بات کرتے ہیں، جب روس کے ایک جرنیل نے باسفورس پر ایٹم بم گرانے کی دھمکی دی تو اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیاکہ پھر یورپ سے تجارت کس راستے سے کروگے؟ اور باسفورس میں روس کے تجارتی جہازوں کو پوچھ گچھ کے لئے پورا پورا دن رکواتا رہا، امریکہ سے 16 جولائی کی بغاوت کا سرغنہ امریکہ میں مقیم نام نہاد مبلغ گولن کی حوالگی کا بار بار مطالبہ کیا اور کھل کر کہا کہ امریکہ بتائے کہ وہ ترکی کے ساتھ ہے یا دہشت گردوں کے ساتھ؟

گذشتہ دنوں جب ٹرمپ مسلمان حکمرانوں کو اسلام پر درس دینے ریاض گئے تو اردگان نے وہاں جانے سے انکار کیا، ایک صحافی کے پوچھنے پر ایردوان کا کہنا تھا کہ کیا ٹرمپ مجھے اسلام سکھائے گا یا ہم اسے اسلام سمجھائیں گے؟ (اب دنیا بچشم سر دیکھ رہی ہے کہ ٹرمپ کے ریاض یاترا اور ۵۰ مسلم سربراہان سے خطاب نے مسلمانوں کو کس بڑی مصیبت سے دوچار کردیا ہے۔)
مجھے استنبول کے قیام میں جس بات نے زیادہ مز ا دیا وہ آیا صوفیا کے میناروں سے مسجد احمد سلطان کی اذان کی آواز تھی،وہ عمارت جو تقریباً پانچویں صدی عیسوی سےپہلے سے عیسائیت کی عظمت کی نشانی تھی اور فتح کے بعد صدیوں تک بطور مسجد استعمال ہوتی رہی اور جسے بعد میں مصطفی کمال نے عجائب گھر میں تبدیل کیاتھا، اب وہاں کے میناروں سے پھر اذان کی آواز گونج رہی ہے۔

 

رجب طیب ایردوان خود بہترین قاری ہیں ان کی تلاوت سنتے ہوئے ایمان تازہ ہوتا ہے ، اسے امت مسلمہ پر فخر ہے وہ علماء کے سامنے اب بھی دوزانو ہوکر بیٹھتے ہیں ۔مغرب اور اسرائیل اسے کبھی صلاح الدین ایوبی اور کبھی دوسرا محمد الفاتح قرار دیتے ہیں، ان کا خوف بجا ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح وہ نہ ان کا غلام ہے اور نہ ان سے مرعوب، وہ تو مسلم سربراہان کے لئے ایک قابلِ تقلید شخصیت بن کر ابھر رہے ہیں۔

جمہوریت کے راستے اور سیکولر آئین کے سائے میں اسلام کے لئے راستہ نکالنا بس اردگان جیسے مؤمن اور مرد حق کا ہی حصہ ہے۔ نیز جبکہ پاکستان جیسے ملک میں بھی اچھے بھلے مسلمان اور مذہبی سمجھے جانے والے دھیمے دھیمے غیروں کی شاگردی میں چلے جارہے ہیں وہاں ترکی نہ مصر ہے نہ بنگلہ دیش ، ترکی بس ترکی ہے، ہر کمال و جمال میں یگانہ و یکتا، وہ امت مسلمہ کی قیادت کے منصب کی طرف رواں دواں ہے۔اب ترک قوم کی نئی نسل اپنی متاع گم گشتہ‘ اسلام ’کو اپنا کر اطمینان قلب کے گوہر کو پارہی ہے، تعلیمی اداروں میں اسلامی نصاب رائج کیا جارہا ہے، اور امام خطیب سکولوں کا نظام مزید بہتر کیا جارہا ہے۔

مجھے استنبول کی الفاتح مسجد میں دو راتیں تراویح پڑھنے کا موقع ملا، ترویحہ کے اختتام پر جس جوش و خروش سے وہ لوگ درود پڑھتے تھے اس سے ان کے عزم و استقلال اور اسلام پر فخر اور اس کے لئے آخر ی حد تک جانے کا جذبۂ ایمانی نمایاں ہوتا تھا۔

یورپ کے گن گانے والے اگر تقلید اور غلامی کی زنجیروں سے نکلیں تو استنبول جاکر انہیں پتہ چل جائیگا کہ ترقی، نظم و ضبط، صفائی و رعنائی، اور تعمیر کی رونق سے لیکر بحیرۂ مرمرہ اور بحر اسود کے درمیان استبول کی یورپی و ایشیائی حصوں کو ملانے والا باسفورس، شہر کے ارد گرد بل کھاتی ہوئی سمندری لہریں فضا میں اڑتے سفید بادل باذوق لوگوں کے لئے یورپ کے کسی بھی شہرسے کہیں بڑھ کر دعوت ِ نظارہ دیتے ہیں۔

اس پر مستزاد سیاحوں کے لئے توپ کپی کا عجائب خانہ، آیا صوفیا، مسجد الفاتح، مسجد سلطان عالیشان، مسجد احمد سلطان، مسجد ایوب سلطان(ترکی کے لوگ محبت سے ابو ایوب انصاریؓ کو ایوب سلطان کہتے ہیں) اور قبرابو ایوب انصاریؓ واقعی قابل دید ہیں،مسجد ایوب سلطان اور مسجد الفاتح کے اندر نماز پڑھتے ہوئے ایک ایسا سکون ملتا ہے جس کا تعلق صرف ذوق و احساس سے ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا ، خصوصاً مسجد ایوب سلطان میں صبح کی نماز کا لطف (حرمین کو چھوڑ کر) شائد ہی کہیں ملے۔

خطۂ قسطنطنیہ یعنی قیصر کا دیار

مہدی امت کی سطوت کا نشان پائیدار

صورت خاک حرم یہ سرزمین بھی پاک ہے

آستان مسندآرائے شہِ لولاک ہے

نگہت گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا

تربت ایوبؓ انصاری سے آتی ہے صدا

اے مسلمان ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر

سینکڑوں صدیوں کی کشت وخوں کا حاصل ہے یہ شہر

(علامہ اقبالؒ ، بانگِ درا،بلادِ اسلامیہ)

تبصرے
Loading...