وعدے پورے نہ کرنے پر ترک وزیر خارجہ کی یورپی یونین پر کڑی تنقید

0 129

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے یورپی یونین کو 6 ارب یوروز (6.65 ارب ڈالرز) ادا نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ جس کا وعدہ اس نے شامی بحران کے بعد مہاجرین کے حوالے سے انقرہ کے ساتھ معاہدے میں کیا تھا۔

مولود چاؤش اوغلو ایک جرمن روزنامے سے گفتگو میں ترکی کے یورپی یونین سے تعلقات اور شام اور لیبیا میں پیش رفت کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے 2015ء کے معاہدے کے طور پر اپنے وعدے پورے نہیں کیے کہ جہاں فریقین نے مہاجرین کے بحران کے حوالے سے اتفاق کیا تھا اور یورپی یونین نے ابتدائی 3 ارب یوروز ادا نہیں کیے کہ جو 2016ء کے اختتام تک مل جانے چاہیے تھے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ جرمن چانسلر انگیلا مرکیل نے مہاجرین کے حوالے سے معاہدے پر دستخط میں اہم کردار ادا کیا اور اس نے یورپی یونین کے چند رکن ممالک میں حسد کے جذبات پیدا کیے۔

مہاجرین کے معاہدے کے حوالے سے جرمنی کو مددگار اور جرات مند قرار دیتے ہوئے چاؤش اوغلو نے کہا کہ اس معاہدے نے لوگوں کے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے کو محدود کیا۔ "معاہدے سے قبل روزانہ کی بنیاد پر 7,000 افراد ترکی سے یونان میں داخل ہو رہے تھے اور معاہدے پر دستخط کے بعد سے یہ تعداد اوسطاً 57 روزانہ رہ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ وسطی اور مشرقی یورپی ممالک مہاجرین کو قبول نہیں کرنا چاہ رہے اور انہوں نے جرمنی کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ البتہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے کسٹمز یونین اور مذاکرات میں کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے گئے۔ البتہ اس کے باوجود ترکی یورپی یونین کے ساتھ ہجرت کے معاہدے کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔

جرمنی میں رہنے والے 35 لاکھ ترکوں کا حوالہ دیتے ہوئے مولود چاؤش اوغلو نے کہا کہ ترکی ان لوگوں کو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے پُل کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور انقرہ نے ہمیشہ جرمن برادری میں ترکوں کی شمولیت کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب انہوں نے گولن دہشت گرد گروپ (FETO) اور PKK دہشت گردوں کے حامیوں کی جرمنی میں پناہ لینے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اول الذکر تنظیم کے سینئر اراکین وہاں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں؛ جبکہ PKK کو وہاں سے دہشت گردی کے لیے مالی مدد ملتی ہے۔

FETO، جو عرصہ دراز سے ایک مذہبی تنظیم کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی بالآخر 2013ء میں پہلی بار اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، اور اب بھی جرمنی میں ایک تحریک کی حیثیت سے دیکھی جاتی ہے۔ گو کہ یورپی ملک میں اسلام مخالف حلقے اس پہلو سے ان پر تنقید کرتے ہیں لیکن جرمن حکومت نے انہیں تسلیم کیا ہے اور یہی وجہ ہے انقرہ کے اعتراضات پر کان نہیں دھرا گیا۔ جرمنی کی فیڈرل انٹیلی جنس سروس (BND) کے سربراہ برونو کال نے تو 2017ء میں اسے ایک "سوِل آرگنائزیشن” قرار دیا۔

ترک رہنما نے برلن کانفرنس کی میزبانی کی جرمن کوشش کا خیر مقدم کیا کہ جس میں لیبیا میں جنگ بندی اور امن کے قیام پر بات کی گئی۔ اقوام متحدہ کی منظور شدہ گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) اور کمانڈر خلیفہ حفتر سے تعلق رکھنے والے دستے اہم علاقوں کر قبضہ کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

لیبیا میں ترکی کے مفادات کے حوالے سے ایک سوال پر چاؤش اوغلو نے کہا کہ انقرہ انتظامیہ کے لیے امن و استحکام بنیادی چیز ہے، اس کے ساتھ وہ اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی طرابلس میں محدود تعداد میں فوجی مشیر بھیجے گا۔

اب جبکہ شامی حکومت اور ان کے اتحادیوں کی شمال مغربی شہر ادلب میں جارحیت جاری ہے اور لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر ترک سرحد کے قریب پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ چاؤش اوغلو نے کہا کہ شام کی بشار اسد حکومت سیاسی حل پر فوجی حل کو ترجیح دے رہی ہے جبکہ ترکی اس تنازع کو حل کرنے کے لیے سیاسی مذاکرات کو اہمیت دیتا ہے۔

جرمن وزیر دفاع کی جانب سے شام میں انٹرنیشنل سیف زون کے قیام کے حوالے سے جاری کردہ بیان پر چاؤش اوغلو نے کہا کہ ترکی اس تجویز پر اعتراض نہیں اٹھاتا لیکن چیلنجز سے آگاہ ضرور کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ PKK دہشت گرد گروپ کی شامی شاخ YPG کے خلاف ترکی کی انسداد دہشت گردی مہم کے بعد 3,72,000 شامی مہاجرین شمالی شام کو لوٹ چکے ہیں۔ چاؤش اوغلو کے مطابق ترکی 36 لاکھ بے گھر شامیوں کی میزبانی کر رہا ہے اور ان میں سے تقریباً ساڑھے 3 لاکھ کُرد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کیا آپ نے کبھی یہ سوال کیا ہے کہ کرد ان علاقوں میں کیوں نہیں جانا چاہتے کہ جہاں YPG دہشت گرد گروپ کا کنٹرول ہے؟ مغرب اس حوالے سے دہرے معیارات رکھتا ہے۔”

چاؤش اوغلو نے کہا کہ YPG دہشت گرد گروپ نے شام کے آبادیاتی منظرنامے کو بھی تبدیل کر دیا ہے جبکہ ترکی اسے توڑنے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے۔

تبصرے
Loading...