ترک ملٹری کمانڈوز نے قطر میں اٹھنے والی بغاوت کچل ڈالی، رپورٹ میں انکشاف

0 22,915

ترک روزنامہ ینی شفق  نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ترک افواج نے مشرق وسطٰی میں پیدا ہونے والے المناک سیاسی بحران میں اس وقت بہت اہم کردار ادا کیا جب انہوں نے امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کے خلاف ممکنہ سیاسی بغاوت کو بروقت کامیابی سے روک دیا۔ یہ واقعہ 5 جون 2017ء کے بعد پیش آیا جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین نے قطر سے تعلقات خراب ہونے کے بعد سفارتی رابطے منقطع کر لئے تھے۔

مہمت ایست جو ترک اخبار ینی شفق کے ساتھ بطور کالم نگار منسلک ہیں، انہوں  نے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ ترک افواج نے دوحہ میں امیر قطر کی سکونت گاہ کو اس بغاوت کی پہلی رات اپنے تحفظ میں لیتے ہوئے ممکنہ بغاوت سے قطر کو بچایا اور نہ صرف ملکی حاکمیت بلکہ علاقائی سلامتی کے لئے بھی ایک اہم کردار ادا کیا۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مبینہ طور پر قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو معزول کرنا چاہتے ہیں اور تعلقات میں خرابی کی وجہ قطر کے دہشت گردوں اور ایران کے ساتھ قریبی تعلقات بتاتے ہیں۔

Turkish President Recep Tayyip Erdogan, left, and Qatar’s Emir Sheikh Tamim bin Hamad Al-Thani inspect a military honour guard at the new presidential palace in Ankara, Turkey, Friday, Dec. 19, 2014. The Emir is in Turkey for a two-day state visit. (AP Photo)

آرٹیکل کے مطابق سعودی اور اماراتی افواج کو قطری امیرکو ہٹانے کا کوئی موقعہ نہ مل سکا اور انہیں آدھے راستے سے واپس جانا پڑا۔

مہمت ایست کے مطابق ایک حکومتی نمائندہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریبا 200 ترک فوجیوں کو 5 جون کی رات امیر قطر کی رہائش گاہ کی حفاظت کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے تاکہ کوئی طاقت یا فورس انہیں بزور معزول کرنے یا نقصان پہنچانے کی جسارت نہ کرے۔

ترک فضائیہ کے جہاز بھی اس رات کسی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے مبینہ طور پرچوکس تھے۔

قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی کی ترک صدر رجب طیب ایردوان سے بذریعہ ٹیلیفون بات چیت کے بعد امیر قطر کی رہائش گاہ کی حفاظت کی ذمہ داری ترک فوج نے سنبھالی۔

شہنشاہ قطر نے مبینہ طور پر انقرہ کوممکنہ سعودی اور اماراتی بغاوت سے پہلے ایکشن لینے اور دوحہ کی حفاظت کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس رپورٹ کو ایک دوسری صحافی خاتون خیلال کپلان نے مسترد کرتے ہوئے غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ایک اعلیٰ ترک اہلکار نے اس منصوبے کی نفی کی ہے اور 200 فوجیوں کو امیر کے محل پر پہرہ دینے اور ترک جیٹ طیاروں  کے ہائی الرٹ ہونے کی بھی تردید کی ہے۔ جبکہ اعلیٰ اہلکار نے باقی تفصیلات کو آف دی ریکارڈ رکھا ہے۔

تعلقات بحال کرنے کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ترکی نے بری اور بحری راستوں سے قطر کو اشیائے خوردونوش بشمول پھلوں، پولٹری اور ڈیری مصنوعات کی ترسیل جاری رکھی کیونکہ قطر کے پڑوسی ممالک نے تعلقات خراب ہونے کے بعد اس پر تجارتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

بحران کے شروع ہونے سے لیکر اب تک ترکی تقریبا ان تمام اشیاء کے تقریبا 200کارگو جہاز قطر کو بروقت پہنچا چکا ہے۔

تبصرے
Loading...