پچھلے 17 سالوں میں ترکی نے ہر شعبے میں نمایاں کامیابیاں سمیٹیں، طیب ایردوان

0 1,304

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں کمرشل قونصلرز کی چوتھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ترکی میں کام کرنے والے ان قونصلرز کی یہ کانفرنسیں 110 مختلف ممالک کے 131 مراکز سے تعلق رکھنے والے قونصلرز کو یکجا کرتی ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ اجلاس تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکجا ہونے کا موقع دیتے ہیں جو بین الاقوامی تجارت کو بہتر بنانے کے لیے ان میں حصہ لیتے ہیں۔ یوں وہ غیر ملکی تجارت کے لیے پالیسیاں ترتیب دینے میں ہمارے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون اور اس دوران سامنے آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات طے کرنا ممکن بناتے ہیں۔”

"گزشتہ 17 سالوں میں ترکی نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں تاریخی اصلاحات اور کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ ہم نے تعلیم پر مکمل توجہ برقرار رکھتے ہوئے کبھی صحتِ عامہ سے بے پروائی نہیں برتی یا نقل و حمل کے ذرائع پر زور دیتے ہوئے کبھی زراعت، سیاحت یا مینوفیکچرنگ سے صَرفِ نظر نہیں کیا۔ ہم کسی شعبے کو پیچھے چھوڑے بغیر اپنے ملک کی ترقی کے لیے جامع انداز میں کام کرتے رہے۔ یہ پچھلے 17 سالوں میں صرف ہمارے صنعت کاروں ہی کی ترقی نہیں ہے۔ ذرائع اور ہمارے مزدوروں، کاشت کاروں، سرکاری ملازمین اور تاجروں کے وسائل و اسباب بھی بہتر ہوئے ہیں۔” صدر ایردوان نے کہا۔

اس دوران معیاربندی میں آنے والی واضح تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ "ہم افریقہ اور لاطینی امریکا جیسے خطوں کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں کہ جن سے ہمارے تعلقات ماضی میں بہت محدود تھے۔ افریقی اور لاطینی امریکا کے حوالے سے نئی پالیسی کی بدولت ہم ان خطوں کے حوالے سے موجود معاشرتی تعصبات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے۔”

چھوٹے بڑے تمام کاروباری افراد اور اداروں کے مسائل کا خیال رکھنے کی بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم بطورِ ریاست محض سفارت کاروں اور اتاشیوں کے ذریعے ہی اپنی موجودگی ظاہر نہیں کی بلکہ TIKA، یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ، AFAD، YTB، انادولو ایجنسی، ترکش ایئرلائنز، DEIK اور معارف فاؤنڈیشن کے ذریعے بھی کئی اہم کام کر رہے ہیں۔”

"گزشتہ 17 سال میں برآمدات، سیاحت اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار میں آنے والی تبدیلیاں اس فاصلے کی نشاندہی کرتی ہیں جو ہمارے ملک نے طے کیا ہے۔” صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ہماری برآمدات 2002ء میں 36 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 2018ء میں 168 ارب ڈالرز تک جا پہنچیں۔ اسی عرصے میں ترکی نے 5.6 فیصد کی بہترین شرحِ نمو حاصل کی اور پچھلے سال کا اختتام بھی 2.6 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ کیا۔”

تبصرے
Loading...