ترکی، سیاحت کے لیے 58 ملین غیر ملکی مہمانوں اور 40 ارب ڈالرز کی آمدنی کا ہدف

0 297

شعبہ سیاحت کے لیے 2019ء ایک زبردست سال رہا اور اب ترکی کی نظریں 2020ء میں مزید سیاحوں اور بہتر آمدنی پر لگی ہوئی ہیں۔ وزیرِ ثقافت و سیاحت محمد نوری ارصوی نے کہا ہے کہ ترکی اِس سال 58 ملین غیر ملکی مہمانوں کا خیر مقدم کرنے اور سیاحت کی سرگرمیوں سے 40 ارب ڈالرز حاصل کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔

مشرقی بحیرۂ روم میں بین الاقوامی سیاحت و سفر پر منعقدہ نمائش (EMITT) سے خطاب کرتے ہوئے نوری ارصوی نے کہا کہ "گو کہ ابھی حتمی اعداد و شمار سامنے آنا باقی ہیں لیکن ہم 52 ملین مہمانوں اور 34 ارب ڈالرز کی آمدنی کا ہدف حاصل کر لیں گے۔” یہ نمائش 24 ویں مرتبہ استانبول میں شروع ہوئی ہے اور 2 فروری تک جاری رہے گی۔

ترکی میں آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں سالانہ 14.31 فیصد اضافہ ہوا ہے جو وزارتِ ثقافت و سیاحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے 11 مہینوں میں 42.9 ملین تک جا پہنچے۔ بحیرۂ روم کے کنارے واقع شہر انطالیہ بدستور ترکی کا سیاحتی مرکز رہا کہ جنوری سے نومبر کے دوران 14.4 ملین سیاح آئے۔ ترکی کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا شہر اور اہم سیاحتی مرکز استانبول دوسرے نمبر پر رہا کہ جہاں 13.7 ملین غیر ملکی مہمانوں کی آمد ہوئی۔ دونوں شہر ترکی کی کُل غیر ملکی سیاحت میں 65 فیصد سے زیادہ کا حصہ رکھتے ہیں۔

وزیر نے کہا کہ سیاحت کی صنعت میں طویل عرصے سے قائم روایات کو توڑنا آسان نہیں ہوتا اور ساتھ ہی توجہ دلائی کہ سیاحت کے شعبے میں اقوامِ متحدہ کی عالمی سیاحتی انجمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت عالمی سیاحتی مارکیٹ 1.5 ارب سیاحوں پر مشتمل ہے اور 1.5 ٹریلین ڈالرز کا حجم رکھتی ہے۔

تمام ممالک عالمی سیاحت میں اضافے پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور اس میں زیادہ سے زیادہ حصہ پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوری ارصوی کہتے ہیں کہ "ہم نے 2023ء کے لیے اپنا ہدف 50 ملین سے بڑھا کر 75 ملین کر دیا ہے۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا ماحول تخلیق کیا جائے کہ جہاں آمدنی مختلف علاقوں اور کاروباروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب تک سیاحتی آمدنی کی جامع انداز میں ایسی تقسیم کو یقینی نہیں بنایا جائے، پالیسیوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔

ترکی کئی شعبوں میں ترقی کے امکانات رکھتا ہے جیسا کہ خوش خوراکی، ثقافت، صحت کے لیے، موسمِ سرما میں، مذہبی اور کھیلوں کے لیے سیاحت۔ اس سلسلے میں سیاحتی اور معاشی ترقی کے لیے ان شعبوں میں مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

تبصرے
Loading...