ترکی سعودی عرب اور مصر کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، صدر ایردوان

0 383

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا اور مصر کے ساتھ تعلقات پر بھی وزارتی سطح پر بات چیت جاری ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکی کے علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں کھنچاؤ موجود ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے TRT کے ساتھ گفتگو میں صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے اور خلیجی ممالک کے مابین تعاون کے زبردست امکانات موجود ہیں۔ ہماری معیشتیں ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہیں۔ اب ہم باہمی مفادات کی بنیاد پر تعاون کے نئے منصوبوں پر نظریں رکھتے ہیں جنہیں ہم نئی سرمایہ کاریوں کے لیے مواقع سمجھتے ہیں۔”

ابو ظبی کے ولی عہد نے گزشتہ ہفتے انقرہ کا دورہ کیا تھا، جو 2012ء کے بعد ان کا پہلا دورۂ ترکی تھا اور دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ پڑنے کے بعد کسی بھی اماراتی عہدیدار کا پہلا دورۂ ترکی بھی تھا۔

صدر ایردوان اور ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان نے درجن بھر منصوبوں پر تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے، جبکہ اماراتی عہدیدار نے کہا کہ امارات ترکی میں 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے کہ شیخ محمد بن زاید امارات کے حقیقی حکمران ہیں اور اس کی خارجہ پالیسی کے پس پردہ اہم کردار ہیں۔

صدر فروری میں امارات کا جوابی دورہ کریں گے جبکہ وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو اور انٹیلی جنس سربراہ خاقان فدان ان سے پہلے امارات جائیں گے۔

صدر نے کہا کہ "ابو ظبی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اٹھائے گئے اقدامات تاریخی ہیں، 11 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پر مفاہمت کی گئی ہے۔” انہوں نے جلد ہی امارات کا دورہ کرنے کی بھی بات کی اور کہا کہ امید ہے کہ ان دوروں سے عرب امارات کے ساتھ تعلقات نئی سطح پر پہنچیں گے۔

صدر نے مزید کہا کہ خطے کے ایک اور ملک بحرین کے عہدیدار بھی ترکی کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

ترکی اور عرب امارات علاقائی تنازعات میں ایک دوسرے کے حریف بن کر کھڑے رہے ہیں جس میں لیبیا کے مسئلے کے علاوہ خلیجی اور مشرقی بحیرۂ روم کے معاملات بھی شامل ہیں۔

ترکی کی مخالفت کی بنیادی وجہ اس کی جانب سے اخوان المسلون کی حمایت تھی، جسے عرب امارات اور دیگر عرب ممالک اپنے لیے قومی سلامتی کا خطرہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب انقرہ کو شبہ ہے کہ متحدہ عرب امارات گولن دہشت گرد تحریک کی پشت پناہی کرتا ہے جو 2016ء میں ترکی کی ناکام بغاوت کے پسِ پردہ بنیادی کردار ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: