ترکی کی مدد سے پنجاب میں انسداد دنگا فساد پولیس یونٹ کا قیام

0 1,290

ترک نیشنل پولیس اپنی صلاحتیوں سے اپنے آپ کو منوا چکی ہے۔ 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت میں ترک پولیس کے کردار کو تسلیم کیا جاتا ہے جس سے فوجی ٹولے کو کامیابی کے ساتھ سنبھالا اور گرفتار کیا۔ ملکی سطح پر ہی نہیں عالمی سطح پر بھی ترک انسداد دنگا فساد پولیس کی خدمات کو معیاری سمجھا جاتا ہے۔

ترکی اور عالمی سطح پر انسداد دنگا فساد ٹریننگ پروگرام

گذشتہ سال بحرین نے ترک صدر رجب طیب ایردوان کو خصوصی درخواست کی کہ اندرونی بحران کے سنبھالنے میں تعاون کرتے ہوئے انسداد دنگا فساد پولیس بھیجی جائے۔ جسے قبول کرتے ہوئے 300 اہلکار اور 15 ٹرینر بحرین بھیجے گئے تاکہ مقامی پولیس کو ٹریننگ بھی دی جائے۔ اسی طرح 2016ء میں ترک پولیس ٹرینر نے یوگنڈا کی پولیس کو بھی انسداد دنگا فساد کی ٹریننگ دی۔

گذشتہ ماہ ایران میں پھوٹنے والے پر تشدد مظاہروں کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ایرانی صدر کو انسداد دنگا فساد میں تعاون کی پیش کش کی تھی۔ کیونکہ مسلمان ممالک میں یہ عمومی رجحان دیکھا گیا ہے کہ اندرونی حالات کو خراب کر کے عالمی طاقتیں اپنے مفادات کا کھیل کھیلتی ہیں۔

ترک نیشنل پولیس اور پنجاب پولیس تعاون

ماڈل ٹاؤن اور یوحنا آباد واقعات کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ترکی سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ 2016ء میں انسداد دنگا فساد پولیس کی ٹریننگ پر ترکی اور پنجاب میں تعاون کا آغاز ہوا۔ ترک نیشنل پولیس کے وفد نے لاہور کا دورہ کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مظاہروں سے نبٹنے کے لیے استنبول انسداد دنگا فساد پولیس یونٹ کی طرز پر پنجاب میں بھی خصوصی یونٹ تیار کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں مختلف رینک کے 40 پولیس افسران کو استنبول بھیجا گیا جہاں انہوں نے نہ صرف ٹریننگ حاصل کی بلکہ ٹریننر بھی بنے۔ ان ٹریننر سے مزید ہزار سے زائد پولیس نوجوانوں کو انسداد دنگا فساد کی ٹریننگ دی اور پنجاب میں انسداد دنگا فساد کا خصوصی یونٹ تیار کیا گیا۔

انسداد دنگا فساد یونٹ پنجاب

ایس پی محمد نوید کی سربراہی میں قائم یہ خصوصی یونٹ گذشتہ سال مارچ سے تیاری کے مراحل سے گزر کر مئی میں باقاعدہ ورکنگ میں آ گیا۔ محمد نوید کے بتایا کہ یہ یونٹ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے جس سے مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کیا جا سکتا ہے۔ یونٹ اہلکاروں کو شیلڈز، ہیلمٹ، روبو کیپس، بیٹونز، پینٹ بال رائفلز، واٹر کینن اور گیس فلٹر سے لیس کیا گیا ہے۔

مقامی اور عام پولیس کے مقابلے میں انسداد دنگا فساد یونٹ خصوصی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔  حال میں ہی میں پنجاب کے شہر قصور میں مقامی پولیس کی بدسلوگی اور مس ہینڈلنگ کی وجہ سے بے قابو مظاہرین میں سے دو جاں بحق ہو گئے۔ کشیدہ حالات میں دوسرے دن ترک تربیت یافتہ یونٹ کو قصور بھیجا گیا۔ جس کے چار دستوں نے دو گھنٹوں میں بغیر کسی نقصان کے علاقہ خالی کروا لیا۔

ترک انسداد دنگا فساد ٹریننگ

ترک ٹرینرز نے پنجاب پولیس کے منتخب شدہ اہلکاروں کو عالمی معیار کے مطابق تربیت دی۔ انہوں نے منتخب شدہ اہلکاروں میں کئی ماسٹر ٹریننر تیار کئے جو اس وقت پاکستان میں ٹریننگ دے رہے ہیں۔

انسداد دنگا فساد کے لیے خصوصی سوٹ

ٹریننگ کے دوران ساٹھ اہلکاروں کا ایک گروپ لیا جاتا ہے۔ بیس افراد ایک طرف کھڑے کر دئیے جاتے ہیں اور انہیں یہ ٹاسک دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بیچ میں سے دوسروں کو گزرنے نہ دیں۔ باقی کے تیس لوگوں کا ٹاسک یہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان بیس جوانوں کے بیچ میں سے گزریں گے۔ اس سیشن میں وہ آسانی سے گزر جاتے ہیں۔ اس کے بعد تیس تیس کے دو گروپ بنائے جاتے ہیں۔ تیس افراد کو روکنے اور باقی کے تیس کو ان میں سے گزرنے کا ٹاسک دیا جاتا ہے، اس میں انہیں کچھ کوشش کرنی پڑتی ہے لیکن  آرام سے گزر جاتے ہیں۔ اس کے بعد چالیس اور بیس کے دو گروپ بنائے جاتے ہیں اور بیس افراد کو چالیس افراد میں سے گزرنے کا کہا جاتا ہے جبکہ چالیس افراد نے مل جل کر انہیں روکنا ہوتا ہے۔ اس سیشن میں تھوڑی جدوجہد کے بعد بیس افراد بھی چالیس افراد میں سے گزر جاتے ہیں۔

اس کے بعد ترک ٹرینرز نے ان کو لائن فارمیشن بنانا سکھاتے ہیں۔ اس فارمیشن میں آدھے لوگ اپنی شیلڈز ایک دوسرے سے ملا کر (بلکہ پھنسا کر ) اس طرح سے کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کے بیچ سے گزرنے کا راستہ نہ بچے۔ باقی آدھے ان کے پیچھے اس طرح سے کھڑے کئے جاتے ہے کہ ان کا ایک ہاتھ سامنے والی کی کمر پر اور دوسرا شانے پر موجود ہُک میں پھنسا ہوتا ہے۔ اس پیچھے والے سپاہی کا کام آگے والے سپاہی کو قائم رکھنا ہوتا ہے۔ ان کی وجہ سے مظاہرین نہ تو کسی سپاہی کو اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں اور نہ ہی پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔

فائل فوٹو: رُوف فارمیشن

لائن فارمیشن بنانے کے بعد 20 کے گروپ نے چالیس کے گروپ کو آسانی سے روک لیتے ہیں۔ ٹریننگ کے دوران چالیس افراد بہت کوشش اور سر پیر مارتے ہیں لیکن 20 اہلکاروں کو نہیں توڑ سکتے۔

پتھراؤ وغیرہ کی صورت میں رُوف فارمیشن سکھائی جاتی ہے۔ اس میں پیچھے والے اپنی شیلڈز اگلی رو کے سر پر رکھ کر ان کے نیچے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اوٗل تو وردی ہی اتنی جدید ہوتی ہے کہ اس پر پتھر وغیرہ کا اثر نہیں ہوتا، دوسرا شیلڈز کے اس انداز سے کوئی پتھر براہ راست ان پر لگتا ہی نہیں ہے۔

مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لئے رِنگ فارمیشن بنائی جاتی ہے۔ اس میں مظاہرین کو گھیرے میں لے لیا جاتا ہے اور اریسٹ پارٹی مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کر دیتی ہے۔

فائل فوٹو: چلی سپرے

جدید آلات جیسے واٹر کینن اور مرچوں کا سپرے وغیرہ بھی سکھایا جاتا ہے۔ کوئی بہت قریب آ جائے اور خدشہ ہو کہ کسی نقصان کا موجب ہو گا تو اس پر مرچوں کو سپرے کیا جاتا ہے۔ زیادہ لوگوں پر واٹر کینن سے پانی کی تیز دھار ڈالی جاتی ہے۔

 

تبصرے
Loading...