ترکی اور روس کا لیبیا میں سیزفائر پر اصرار

0 135

روسی وزارت خارجہ نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعرات کو ایک فون کال کے دوران لیبیا میں فوری سیزفائر پر اصرار کیا ہے۔

دونوں عہدیداروں نے شمالی افریقہ کے اس ملک میں اقوام متحدہ کی جانب سے سیاسی عمل کے دوبارہ آغاز کی بھی حمایت کی۔

یہ گفتگو باغی جرنیل خلیفہ حفتر کی افواج کی طرابلس کے چند محاذوں سے پسپائی کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے دارالحکومت کا محاصرہ کرنے کی سال بھر سے جاری باغیانہ کوششوں پو سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

مشرقی لیبیا میں غیر قانونی مسلح افواج کے لیڈر خلیفہ ہفتر نے مئی سے عام شہریوں پر حملے بڑھا دیے ہیں کیونکہ لیبیا کی آرمی نے حال ہی میں برتری حاصل کی ہے اور عسکریت پسندوں کو سخت جانی نقصان پہنچایا ہے۔

طرابلس کے جنوب مغربی صحرا میں الوطیہ ایئربیس کا ہاتھوں سے نکل جانا حفتر کے دستوں کے لیے ایک بڑی ناکامی ہے۔

حکومت اپریل 2019ء سے خلیفہ حفتر کے حملوں کی زد میں ہے، جس میں اب تک 1،000 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس نے دارالحکومت پر حملوں کے جوبا میں 26 مارچ کو آپریشن پِیس اسٹورم شروع کیا تھا۔

2011ء میں سابق آمر معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد سے لیبیا میں طاقت کے دو مراکز بن چکے ہیں: مشرقی لیبیا میں حفتر، جسے مصر اور متحدہ عرب امارات کی پشت پناہی حاصل ہے اور طرابلس میں گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کہ جسے اقوام متحدہ کی اور بین الاقوامی تائید حاصل ہے۔

تبصرے
Loading...