ترکی اور روس شامی سرزمین پر کسی بھی علیحدگی پسند ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے

0 228

روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "آج ہم نے دہشت گردی سے مقابلے، شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کے تحفظ اور مہاجرین کی واپسی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے جناب پوتن کے ساتھ مفاہمت کی ایک تاریخی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس یادداشت کے مطابق ترکی اور روس شامی سرزمین پر کسی بھی علیحدگی پسند ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور روس کے صدر ولادیمر پوتن نے سوچی میں مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

"قومی کرنسی میں تجارت پر معاہدہ 100 ارب ڈالرز کی باہمی تجارت کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم ہے”

"آج کے ایجنڈے کا اہم موضوع شام میں ہونے والی پیش رفت تھی۔ البتہ ہم نے باہمی تعلقات پر بھی گفتگو کی،” صدر رجب طیب ایردوان نے کہا۔ قومی کرنسی میں تجارت بڑھانے کے معاملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اسے 100 ارب ڈالرز کی باہمی تجارت کے ہدف کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

آق قویو نیوکلیئر پاور پلانٹ اور ترک اسٹریم منصوبوں پر ترکی اور روس کے تعاون اور S400 کی وقت پر فراہمی پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "مستقبل میں ہم اپنے مشترکہ مفادات کے مطاق زبردست اقدامات اٹھاتے رہیں گے۔ ہم نے دفاعی صنعت میں بڑے اقدامات اٹھائے ہیں اور آگے بھی اٹھا تے رہیں گے۔”

"صدر پوتن اور میں نے شام میں امن، آشتی اور استحکام کی بحالی کے لیے آستانہ جیسی زبردست کوششیں کی ہیں،” صدر ایردوان نے کہا۔ سوچی میں اہم فیصلے لینے اور انقرہ اجلاس میں آئینی کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کو یادکرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ کمیٹی 30 اکتوبر کو پہلی بار اجلاس منعقد کرے گی۔

ادلب میں ہونے والی پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ صورت حال کو بہتر بنانا اور استحکام کو ماحول کو مستقل صورت دینا ان کااہم ہدف ہے۔

"آپریشن چشمہ امن کا علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ اور مہاجرین کی واپسی کو آسان بنانا ہے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ آپریشن چشمہ امن کا ہدف علاقے سے دہشت گرد تنظیم کا خاتمہ اور مہاجرین کی واپسی کو آسان بنانا ہے، صدرایردوان نے کہا کہ "آپریشن علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم سے لاحق خطرے کو ختم کرتے ہوئے شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کو بھی یقینی بناتا ہے۔ ہم کسی بھی ملک کی زمین یا سالمیت کے خلاف کوئی منصوبہ نہیں رکھتے۔ ہم نے پوری حساسیت کے ساتھ اپنے قدم اٹھائے ہیں۔”

آپریشن فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون کے دوران دہشت گردوں سے خالی کرائے گئے 4 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں 3 لاکھ 65 ہزار شامی مہاجرین کی واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "شامی سرزمین، جو کبھی دہشت گردی اور تنازع کے طور پر مشہور تھی، اب ترکی کی وجہ سے امن و استحکام کو پہنچ چکی ہے۔ ہم شمالی شام کے دیگر علاقوں میں بھی انہی اقدامات کو دہرانا چاہتے ہیں۔”

"ہمارے ملک اور قوم نے ساڑھے 36 لاکھ شامی مہاجرین کا خیر مقدم کیا اور پچھلے ساڑھے 8 سال تک ان کی میزبانی کی، جن میں ساڑھے 3 لاکھ کُرد بھی شامل تھے ۔” صدر ایردوان نے کہا۔

"ہم نے شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کو یقینی بنانے کے لیے مفاہمت کی ایک تاریخی یادداشت پر اتفاق کیا ہے”

آپریشن چشمہ امن کے نتیجے میں محفوظ بنائے جانے والے علاقوں میں کُل 20 لاکھ مہاجرین کی آباد کاری کی امید رکھتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ اس مسئلے پر ترکی نے اپنے ہم خیالوں کو ان منصوبوں سے آگاہ کیا ہے اور یہ منصوبے بین الاقوامی برادری کے تعاون اور مدد سے نافذ کیے جائیں گے۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "آج ہم نے دہشت گردی سے مقابلے، شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کے تحفظ اور مہاجرین کی واپسی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے جناب پوتن کے ساتھ مفاہمت کی ایک تاریخی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ مفاہمت کی اس یادداشت کے مطابق ترکی اور روس شامی سرزمین پر کسی بھی علیحدگی پسند ایجنڈے کو قبول نہیں کریں گے۔ 23 اکتوبر کی دوپہر 12 بجے تک 30 کلومیٹر کا علاقہ YPG دہشت گردوں اور ان کے ہتھیاروں سے خالی کرا دیا جائے گا۔ اس تنظیم کی خندقیں اور قلعہ بندیاں تباہ کردی جائیں گی۔ 150 گھنٹے مکمل ہونے پر مشترکہ روس-ترکی گشت آپریشن چشمہ امن کے مغربی اور مشرقی علاقوں میں 10 کلومیٹر کی حدود تک شروع ہوگا۔ منبج سے تل رفعت تک تمام YPG دہشت گرد اور ان کے ہتھیار ختم کردیے جائیں گے۔ دونوں ممالک دہشت گرد عناصر کے نفوذ کو روکنے کے لیے ضروی اقدامات اٹھائیں گے اور مفاہمت کی اس یادداشت کے نفاذ کی نگرانی اور اس پر تعاون کے لیے ایک مشترکہ میکانزم پر کام کریں گے۔”

"ترکی اور روس شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے”

ترکی اور روس شامی بحران کے سیاسی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، اس امر پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میرا ماننا ہے کہ صدر پوتن کے ساتھ مفاہمت کی جس یادداشت پر اتفاق کیا ہے وہ شام میں دیرپا استحکام کو یقینی بنانے اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہوگی۔” صدر ایردوان نے مزید کہا کہ شام کے پڑوسی اور شامی عوام کے دوست کی حیثیت سے ہم ملک میں ایک مرتبہ پھر امن، استحکام اور سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھیں گے۔”

دونوں صدور کی گفتگو کے بعد وزیر امورِ خارجہ مولود چاؤش اوغلو اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف نے ترک اور وفاقِ روس کے مابین طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت پڑھی۔

تبصرے
Loading...