ترکی نے غیر فوجی جزائر پر یونانی افواج اکٹھی کرنے پر نئے نیوٹیکس کا اعلان کر دیا

0 1,657

ترکی نے ایک نئے نیوی گیشنل ٹیلکس (Navtex) کا اعلان کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ کیوس پر فوج کی آمد 1923ء کے معاہدہ لوزان کی خلاف ورزی ہے۔

ازمیر میں ترک بحری افواج کے دفتر برائے نیوی گیشن، ہائیڈروگرافی و اوشنوگرافی (OHNO) نے اس کا اعلان کیا ہے۔

یونانی جزیرہ کیوس ترکی کے مغربی صوبے ازمیر کے قریب واقع ہے۔

ترک حکومت ان پانیوں کے لیے خصوصی حقوق کے یونانی دعووں کو مسترد کرتا ہے کہ جہاں اس کا بحری جہاز ‘عروج رئیس’ کام کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ملکوں کی سمندری حدود کے تعین میں ان جزائر کو شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔

یونان نے بحیرہ ایجیئن میں 23 میں سے 18 جزائر کو مسلح کر دیا ہے، جسے ترکی اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ ان جزائر میں لیسبوس، کیوس، ساموس، سیمی، اکاریا، پاتموس، لیروس، کالمنوس، کوس، استیپلائیا، رہوڈز، کاستیلوریزو، نسیروس، تیلوس، ہالکی، کارپاتھوس اور کاسوس شامل ہیں۔

ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں واقع ڈپلومیٹک اسٹریٹجی ریسرچ سینٹر کے ڈیٹا کے مطابق یونان کے آرمی ڈویژن لیسبوس اور رہوڈز میں موجود ہیں اور ایک بریگیڈ کیوس اور سیمی کے جزیروں پر ہے، ساتھ ہی مختلف انفنٹری بٹالین، ٹینک بٹالین اور اینٹی ایئرکرافٹ بٹالین ان جزائر پر موجود ہے۔

کیوس اور سیمی کے جزیروں پر یونان کے 7,500 فوجی موجود ہیں، رہوڈز پر کمانڈوز، چھ فوجی اڈے، دو بحری اڈے اور دو ہیلی کاپٹر بیس بھی جزائر پر ہیں۔

یونان ترکی کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن کی صورت میں ایجیئن جزائر کو استعمال کرنے کا بھی منصوبہ بنا رہا ہے۔

ترکی نے حال ہی میں کاستیلوریزو کے جزیرے پر فوج تعینات کرنے پر یونان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے اشتعال انگیزی اور مشرقی بحیرہ روم میں اس کے اصل مقاصد کا عکاس قرار دیا ہے۔

کاستیلوریزو کا جزیرہ ترک ساحل سے صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یونانی مسلح افواج نے اسی جزیرے پر نومبر 2019ء میں جنگی مشقیں بھی کی تھیں۔

معاہدہ لندن 1913ء کے مطابق مشرقی ایجیئن جزائر پر فوجی موجودگی محدود کی گئی تھی اور اس پر مہرِ تصدیق 1923ء کے معاہدہ لوزان میں ثبت ہوئی۔ 1947ء کا معاہدہ پیرس، جس کی وجہ سے Dodecanese کے جزائر اٹلی سے یونان کو ملے، وہ بھی ان جزائر کی غیر فوجی حیثیت کی تصدیق کرتی ہیں۔

البتہ یونان کہتا ہے کہ اس حوالے سے ترک آبناؤں کے لیے 1936ء کا مونترے کنونشن لاگو ہونا چاہیے جبکہ انقرہ کہتا ہے کہ اس کنونشن کے تحت بھی یونان ان جزائر کو غیر مسلح رکھنے کا پابند ہے۔

ایجیئن جزائر پر فوجی موجودگی ہمیشہ سے دونوں ملکوں کے مابین وجہ نزاع رہی ہے، خاص طور پر 1960ء کی دہائی میں کہ جب قبرص کے مسئلے انقرہ اور ایتھنز کے مابین تعلقات انتہائی بگڑ گئے تھے۔

تبصرے
Loading...