ترکی اور ایردوان: ہنگامہ آرائی کے دور میں استحکامی طاقت

0 1,039

صدارتی مواصلات کے ڈائریکٹر فرحت الدین آلتون نے اپنی تازہ ترین کتاب "Turkey as a Stabilizing Power in an Age of Turmoil” میں لکھا ہے کہ "ایک بے ترتیب بین الاقوامی نظام، گہرے ہوتے انسانی بحران اور تشدد میں اضافے کے پس منظر میں، صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ترکی نے انسانی مسائل کے حل تلاش کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کے لیے ہمیشہ آواز بلند کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ملک نے یکطرفہ پن کے جال سے بچتے ہوئے دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کو ختم کرنے پر نظر رکھنے کے ساتھ ایک زیادہ فعال خارجہ پالیسی اپنائی ہے”۔

سفارت کاری ایک پیچیدہ اور طویل مدتی راستہ ہے۔ سفارتی کامیابیاں ایک منٹ میں نہیں جیتی جاتیں۔ اس کے لیے طویل المدتی کوششیں، وقت کے ساتھ ساتھ بنائے گئے اہم تعلقات اور مستقل پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ ترکی کی "طاقت کو مستحکم کرنے” کی پالیسی ان سفارتی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

ایک طویل عرصے کی کوششوں کے بعد، ترکی کی پالیسی نے بالآخر ثمر دینا شروع کر دیا ہے۔ میں تجویز کرتا ہوں کہ جو لوگ استنبول میں روس-یوکرائن جنگ کے لیے حال ہی میں ترتیب دی گئی میز کو سمجھنا چاہتے ہیں وہ آلتون کی کتاب کو ضرور پڑھیں جس کا درج بالا ذکر کیا گیا ہے۔ ایردوان کی قیادت میں سفارت کاری کی کامیابی اور بنیادی اصولوں کو سمجھنے کے لیے، اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے اسے عالمی تعلقات کے طلباء کا بار بار پڑھنا مفید رہے گا۔

دو مسیحی، ایک مسلمان

پوری دنیا تک پہنچنے والے اس استحکامی ہاتھ کا آخری پڑاؤ یوکرائن کی جنگ تھی۔ استنبول میں ہونے والے مذاکرات سے قبل ایردوان کے روسی اور یوکرائنی وفود سے خطاب کے بعد سامنے آنے والی وائرل تصویر بہت کچھ بتاتی ہے۔ میز کے دونوں طرف بیٹھے دو عیسائی اور سلاو ممالک نے ایک مسلم ملک کے رہنما ایردوان کی تعریف کی۔ مزید یہ کہ روس اور یوکرائن تاریخی طور پر ایک ہی سلطنت، تسارسٹ روس کا حصہ تھے۔ ان کے سامنے سلطنت عثمانیہ کی میراث اپنے کندھوں پر اٹھائے رجب طیب ایردوان کھڑا تھا۔

اس پوسٹ میں سفارتی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے لیے بہت سے دوسرے اختلافات پر بات کی جا سکتی ہے جس کی وجہ سے ترکی آج اس مقام پر کھڑا ہے۔ نیٹو کے اندر، ترکی اس اتحاد کا رکن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ روس جو کہ نیٹو کے قیام کی وجہ بنا تھا، اس کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں- اس کے ساتھ ساتھ مثال کے طور پر ترکی بیلاروس میں قائم امن میز کو پہلے انطالیہ اور پھر استنبول لے آیا۔ نیز، ترکی روس کے ساتھ سٹریٹجک دفاعی اور توانائی کی شراکت داری پر دستخط بھی کئے ہوئے ہے (جیسا کہ S-400 کی خریداری اور اکویو نیوکلیئر پاور پلانٹ)، تاہم اس کے باوجود ترکی نے شاید روس کے خلاف یوکرائن کے فوجی دفاع کا سب سے کامیاب عنصر بائراکتار ڈرونز کیف کو فراہم کئے۔ اسی طرح، جب کہ زیادہ تر یورپی ممالک نے روس کی طرف سے کریمیا کے الحاق پر آدھے دل سے ردعمل ظاہر کیا تھا، صدرایردوان، جو روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، نے یوکرائن کی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا۔ یہ سب کچھ اس پس منظر میں جرات اور بہادری کے جاری رہا جب روس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے امریکی پابندیوں اور دھمکیوں کا دباؤ برقرار ہے۔

ترکی کے ڈرون، ایک لٹمس ٹیسٹ

مغرب کے متضاد موقف کا اصل لٹمس ٹیسٹ بائراکتار ڈرونز کا مسئلہ تھا۔ ترکی کے وہی ڈرونز جنہوں نے آزربائیجان کو اس قابل بنایا کہ وہ کاراباخ کو آرمینیا کے قبضے سے آزادی دلوا سکا۔ لیکن مغرب نے ترک ڈرونز پر نہ صرف پابندیاں عائد کر دی تھی اور ان کی تعمیر کے لیے پرزے فروخت کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا لیکن اب وہی ترکی کے ڈرون ہیں اور وہی مغرب یوکرائن میں انہی ڈرونز کی تعریف کر رہا ہے۔ مغرب کی انہی عدم مطابقتوں کی وجہ سے ترکی میں امن کی میز قائم ہوئی۔ اس وقت سرد جنگ کے بعد تباہ اور دوبارہ قائم ہونے والا عالمی نظام ایک بار پھر متزلزل ہوا ہے اور یہ کثیر قطبیت کی طرف ترقی کر چکا ہے۔ ایسے وقت میں، امریکہ جیسے ممالک، جو عالمی سیاست کا مرکز بننے سے دور ہوچکے ہیں، اب پلے میکرز کے بجائے گیم میں خلل ڈالنے والے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ استنبول کے مثبت پیغامات کے بعد واشنگٹن کے بیانات، جن کا مطلب تھا کہ "ہوشیار رہیں، روس امن مذاکرات سے دنیا کو گمراہ کر رہا ہے” اس کی ایک واضع مثال ہے۔

تمام پیش رفتوں پر غور کرتے ہوئے، یہ واضح نظر آتا ہے کہ ترکی نے ناقابل یقین حد تک مشکل توازن میں، ایک عمدہ لائن پر سفارتی فتوحات کیسے حاصل کی ہیں۔ اس وجہ سے، "ترکی؛ ہنگامہ آرائی کے دور میں استحکامی طاقت” کا مقالہ مزید معنی خیز ہو چکا ہے۔

یہ مقالہ پڑھنے کے لیے "یہاں کلک کریں"

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: