ترکی، آزربائیجان اور ترکی کے استنبول اعلامیہ پر دستخط

0 1,160

ترکی، آزربائیجان اور پاکستان کے پارلیمانی اسپیکروں نے تینوں ممالک کے درمیان مضبوط ثقافتی اور تاریخی تعلقات کے تسلسل کی یادگار کے طور پر استنبول اعلامیے پر دستخط کیے ہیں۔

استنبول میں ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر مصطفیٰ شینتوپ کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف اور آذربائیجان کی اسپیکر صاحبہ غاف روا نے شرکت کی۔

اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تینوں ممالک بین الپارلیمانی مکالمے کو گہرا کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے تمام شعبوں میں مل کر کام کرتے رہیں گے۔

سفارت کاری، مذاکرات اور تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اعلامیے میں علاقائی استحکام، سلامتی اور خوشحالی میں اضافے کے لیے ترکی، آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان جامع تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

یہ ویڈیو بھی دیکھیں:

اس اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ممالک علاقائی رابطوں، نقل و حمل، تجارت، توانائی، لوگوں کے درمیان تعلقات، تعلیم، سماجی اور ثقافتی تبادلے اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

مزید برآں، اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ممالک مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام دہشت گرد تنظیموں جیسے کہ گولن دہشتگرد گروہ (FETÖ)، PKK/YPG اور داعش سمیت دیگر، اور ان کی توسیع کے خلاف مشترکہ کوشش کی جانی چاہیے۔

اعلامیے میں دنیا بھر میں نسل پرستی، زینو فوبیا، اسلامو فوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خطرناک اضافے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس میدان میں میڈیا کی اہمیت کی بھی نشاندہی کی گئی۔

ترک اسپیکر اسمبلی شینتوپ نے کہا کہ "ہم جتنے زیادہ متحد ہوں گے، اتنا ہی ہم تشدد اور دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ہم امتیازی سلوک اور اسلامو فوبیا کو زیادہ واضح طور پر مسترد کر دیں گے”۔

فریقین نے قبرص کے مسئلے پر بھی بات کی۔ اس کے علاوہ قبرص کے مسئلے کے منصفانہ، پائیدار، حقیقت پسندانہ اور باہمی طور پر قابل قبول حل کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بحیرہ ایجیئن اور مشرقی بحیرہ روم میں بین الاقوامی بنیادوں پر مسائل کے منصفانہ حل کی حمایت کی گئی ہے۔

باہمی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستانی اسپیکر اسمبلی پرویز اشرف نے کہا کہ "پاکستان شمالی قبرص کے بارے میں ترکی کے نقطہ نظر کی حمایت جاری رکھے گا۔”

دوسری طرف، جنوبی قفقاز میں اچھے ہمسایہ تعلقات کے ساتھ ساتھ آذربائیجان کے کاراباغ میں نئے آزاد ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے بھی حمایت کا اظہار کیا گیا۔

مزید برآں، فریقین نے جموں و کشمیر تنازعہ پر اپنے اصولی موقف کی توثیق کی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور خطے کے عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کے منصفانہ اور پرامن حل کی حمایت پر زور دیا۔

غاف روا نے ااس موقع پر یاد دلایا کہ آذربائیجان-پاکستان-ترکی پارلیمنٹ کے اسپیکروں کا پہلا اجلاس گزشتہ سال آذربائیجان میں ہوا تھا اور اُس اجلاس میں تینوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان سہ فریقی تعاون کا فارمیٹ قائم کیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ کے اسپیکرز کے درمیان اگلی ملاقات 2023 میں اسلام آباد میں ہوگی۔

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: