ترکی، جنگل کی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری

0 797

ترکی کے جنگلات میں بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اب بھی 10 مقامات ایسے ہیں جہاں پر آگ لگی ہوئی ہے، جن میں سے تین معروف سیاحتی مقام انطالیہ کے قریب ہیں۔

وزیر زراعت و جنگلات بکر پاک دیمیرلی کے مطابق مختلف صوبوں کے 98 مقامات پر بھڑک اٹھنے والی آگ میں سے 88 پر قابو پا لیا گیا ہے۔

بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں میں موجود آگ کافی خطرناک ہے کیونکہ وہاں تیز ہوائیں امدادی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ کئی علاقے اور ہوٹل خالی کرائے گئے ہیں اور سیاحوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

اس آگ سے اب تک چھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ آگ لگنے کی وجوہات کا اب تک پتہ نہیں چل سکا۔ ترک حکام تمام تر امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے تحقیقات کر رہے ہیں اور آتش زنی کی حرکت بھی خارج از امکان نہیں۔

آئندہ چند دنوں میں ساحلی علاقوں میں شدید گرمی کا امکان ہے اور خدشہ ہے کہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جائے گا۔

پاک دیمیرلی کے مطابق آگ بجھانے کے کام میں 4 ہزار افراد، 6 ہوائی جہاز، 10 ڈرونز، 45 ہیلی کاپٹرز، 55 ہیوی ڈیوٹی گاڑیاں اور 1,080 فائر ٹینڈرز شامل ہیں۔

قبل ازیں، وزیر داخلہ مولود چاؤش اوغلو، وزیر ماحولیات و شہر کاری مراد کریم، اور وزیر ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر عادل قارہ اسماعیل اوغلو نے پاک دیمیرلی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی تھی۔

یہ آگ بدھ کو مرسین، عثمانیہ، ادانہ، انطالیہ اور قہرمان مرعش جیسے جنوبی صوبوں میں بھڑکی تھی جبکہ اسی دوران جنوب مغربی صوبوں مغلہ اور وسطی صوبوں قیریق قلعہ اور قیصری میں بھی مختلف جنگلات میں آگ لگی۔ اتنے بڑے پیمانے پر آگ لگنے ہی کی وجہ سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی سازش کے تحت جان بوجھ کو لگائی گئی ہے۔

تبصرے
Loading...