ترکی نے پاک نیوی کے لیے چوتھا جدید جنگی بیڑہ بنانا شروع کر دیا

0 1,054

ترکی کی جانب سے جدید ملجم بحری بیڑے کی تیاری کی افتتاحی تقریب پاکستان کے پورٹ سٹی کراچی میں ہوئی۔ کراچی شپ یارڈ اور پاک نیوی کے شپ بلڈنگ یونٹ انجینئرنگ ورکس کے زیر اہتمام اس تقریب میں نیول چیف ایڈمرل امجد خان نیازی، دیگر نیوی آفیسرز اور ترکی کی سرکاری فرم آسفیٹ کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل امجد خان نیازی نے کہا کہ ترکی کی مدد سے مقامی جدید جنگی جہازوں کی تیاری پاکستان کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ منصوبہ انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان دفاعی پیداوار کے شعبے میں تعاون کی نئی راہیں کھولے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملجم کلاس کے جہازوں کی شمولیت سے پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

پاک نیوی کے نیول چیف نے کہا کہ یہ بحری جہاز جدید بحری جہاز کے معیار کے مطابق تعمیر کیے جا رہے ہیں اور یہ جدید ترین ہتھیاروں اور سینسرز سے لیس ہوں گے، جن میں زمین سے سطح اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور اینٹی سب میرین ہتھیار شامل ہیں۔

ترکی پاک بحریہ کے لیے 4 طیارہ شکن بحری جنگی جہاز بنائے گا

جولائی 2018 میں، پاکستان نیوی نے ترکی کی سرکاری فرم آسفیٹ کے ساتھ ملجم کلاس کے چار جہازوں کے حصول کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ منصوبے کے مطابق دو کارویٹ بیڑے ترکی میں بنائے جائیں گے اور دو پاکستان میں بنائے جائیں گے جس سے ٹیکنالوجی بھی پاکستان منتقل کی جائے گی۔

ملجم جہاز 99 میٹر (325 فٹ) لمبے ہوتے ہیں جو 24000 ٹن وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ 29 سمندری میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اینٹی سب میرین جنگی فریگیٹس کو ریڈار سے چھپایا جا سکتا ہے۔

اکتوبر 2019 میں، صدر رجب طیب ایردوان نے، اس وقت کے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی کے ساتھ استنبول میں ایک تقریب کے دوران پہلی ملجم اڈا کلاس کارویٹ کی دھاتی پلیٹ کاٹی تھی۔

ترکی دنیا کے ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو اپنی قومی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے جنگی جہازوں کی تعمیر، ڈیزائن اور دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔

تبصرے
Loading...