آیا صوفیا مسجد پر یونان کا ردعمل، ترکی کا کرارا جواب

0 5,410

ترکی نے یونان کے ردِعمل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جو اس نے آیا صوفیا جامع مسجد کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے پر ظاہر کیا ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "آیا صوفیا مسجد کو عبادت کے لیے کھولنے پر یونان کے ردعمل نے ایک مرتبہ پھر اس کی اسلام اور ترکی دشمنی آشکار کر دی ہے۔ ہم مخالفانہ بیانات دینے اور سالونیکا میں ہمارے عظیم پرچم کو نذرِ آتش کرنے کی چھوٹ دینے پر یونان کی حکومت اور اراکینِ پارلیمان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں یونان کو "یورپ کا بگڑا ہوا بچہ” کہا گیا ہے جو آیا صوفیا میں نماز ادا ہوتے تک نہیں دیکھ سکتا۔ "یہ نسل پرست، جنہوں نے اپنی تاریخ سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا، ہمارے عظیم پرچم کی بے حرمتی کر رہے ہیں، انہیں ایجیئن میں اپنا انجام یاد رکھنا چاہیے۔ یونان کو اس خوابِ غفلت سے بیدار ہونا ہوگا جو وہ 567 سالوں سے دیکھ رہا ہے۔”

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آیا صوفیا کا عبادت کے لیے کھلنا ترک عوام کی تمناؤں کے عین مطابق ہے اور یہ مسجد بھی ملک کے دیگر تمام ثقافتی اثاثوں کی طرح ترکی کی ملکیت ہے۔ جبکہ یونان و واحد یورپی ملک ہے جس کے دارالحکومت میں کوئی مسجد نہیں ہے، اور اپنی مسلم ترک آبادی پر جو دباؤ اس نے ڈال رکھے ہیں، یورپی عدالت برائے انسانی حقوق میں اس کی گواہ ہے۔

آیا صوفیا مسجد کو جمعے کو 86 سال بعد پہلی بار عبادت کے لیے کھولا گیا۔ قبل ازیں، ترکی کی ایک عدالت نے 1934ء کے اس سرکاری فرمان کو کالعدم قرار دےدیا گیا تھا جس کو بنیاد بنا کر آیا صوفیا کو مسجد سے عجائب گھر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس تازہ فیصلے سے ہی آیا صوفیا کے دوبارہ مسجد بننے کی راہ ہموار ہوئی۔

تبصرے
Loading...