ترکی نے S-400 استعمال کے لیے خریدے ہیں، ایک طرف رکھنے کے لیے نہیں

0 180

صدر طیب ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین مذاکرات کے محض چند دن بعد ہفتے کے روز ترک ڈیفنس انڈسٹری ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ ترکی نے روس سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹمز استعمال کے لیے خریدے ہیں، ایک طرف رکھنے کے لیے نہیں۔

ایک انٹرویو میں اسماعیل دیمر نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے یہ بات بعید از عقل ہوگی کہ وہ کوئی ایسا سسٹم خریدے کہ جسے صرف ایک طرف رکھ دینا ہو، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ترک اور امریکی عہدیدار اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ S-400 چلانے کے لیے کوئی روسی عہدیدار ترکی نہیں آئے گا۔

ایردوان اور ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے واشنگٹن میں بدھ کو ملاقات کی تھی۔

اس امرکے احساس کے بعد وہ امریکا سے ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم خرید نہیں پائے گا، ترکی نے اپریل 2017ء میں S-400 اینٹی میزائل شیلڈ خریدنے کے لیے روس کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا۔

روسی سسٹم لگانے کی مخالفت کرتے ہوئے امریکا نے استدلال کیا کہ وہ موجودہ نیٹو سسٹمز سے مطابقت نہیں رکھتے اور پانچویں جنریشن کے جدید F-35 طیارے کی کمزوریاں روس کے سامنے عیاں کر دیں گے۔

البتہ ترکی کا کہنا تھا کہ S-400 کو نیٹو سسٹمز میں شامل نہیں کیا جائے گا اور اس لیے یہ فیصلہ اتحاد کے لیے اور اس کے آلاتِ جنگ کے لیے خطرہ نہیں رکھتا۔

ترکی نے تکنیکی مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ لیکن امریکا نے اب تک اس تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا۔

جب انقرہ نے کہا کہ وہ S-400 کا سودا منسوخ نہیں کرے گا تو امریکا نے اپریل میں ترکی کو F-35 پروگرام سے نکال دیا۔ جولائی میں تناؤ مزید بڑھ گیا جب ترکی کو روسی آلاتِ جنگ کی پہلی کھیپ موصول ہوئی۔

واشنگٹن نے خبردار کیاکہ F-35 پروگرام سے اخراج کے بعد پابندیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

انقرہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت سے انکار نے ہی اسے روس کا رُخ کرنے پر مجبور کیا، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ روس نے بہتر سودا کیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔

S-400 کو دنیا کے جدید ترین میزائل سسٹمز میں شمار کیا جاتا ہے، جو بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تبصرے
Loading...