ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقوں کی صورت حال پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، صدر ایردوان

0 471

آق پارٹی کے صوبائی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ادلب سے لاکھوں نئے مہاجرین کے خطرے کا سامنا کرتے ہوئے اب ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقوں کی صورت حال پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔ جیسا کہ میں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہم ستمبر کے آخری ہفتے تک دریائے فرات کے مشرق میں ایک ایسے سیف زون کے مؤثر قیام کے لیے پُرعزم ہیں کہ جیسا ہم بنانا چاہتے ہیں۔”

صدر انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں پارٹی کے صوبائی صدور کے اجلاس سے خطاب کیا۔

"ہم مشرقی بحیرۂ روم میں آخر تک اپنے حقوق کا دفاع کریں گے”

مشرقی بحیرۂ روم میں تیل و گیس تلاش کرنے کی ترک سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ ترک بحریہ کے جنگی جہاز مشرقی بحیرۂ روم میں سرگرم عمل ترکی کے ڈرل شپس کے ساتھ ہیں اور ترکی اپنے شہریوں اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں اپنے عزیزوں کے حقوق کا آخری دم تک دفاع کرتا رہے گا۔

"پابندیوں کی دھمکیاں ہمیں ڈرا نہیں سکتیں”

ترکی کی جانب سے ایئر ڈیفنس سسٹم، نئی جنریشن کے لڑاکا طیارے اور ہائی ٹیک مصنوعات کے حصول میں حائل رکاوٹوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہماری راہ کی ہر رکاوٹ کچھ عرصے بعد بے معنی ہو جاتی ہے کیونکہ ہم وہی ٹیکنالوجی اور پروڈکٹ خود بنا لیتے ہیں۔”

پابندیوں کی دھمکیاں ترکوں کو مایوس نہیں کر سکتیں، اس پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس کے برعکس یہ رکاوٹیں ہمارے عزم کو اور بڑھاتی ہیں۔ دوسروں سے جو خدشات درپیش ہیں، ان کے تلے زندگی گزار کر ہم جی نہیں سکتے۔ اس سلسلے میں مستقبل تاریخی اہمیت کی حامل نئی پیشرفت کا شاہد ہوگا۔”

"ترکی نے بیرل بموں سے بچنے کی کوشش کرنے والوں کا کھلی بانہوں کے ساتھ استقبال کیا”

شام میں ہونے والی پیشرفت پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی نے بیرل بموں سے بچنے کی کوشش کرنے والوں لیے اپنی بانہیں کھول دیں اور پچھلے آٹھ سالوں میں تقریباً ساڑھے 36 لاکھ شامی مہاجرین کی میزبانی کی، جس پر وہ تقریباً 40 ارب ڈالرز خرچ کر چکا ہے یہاں تک کہ یورپی یونین نے بھی ترکی میں آنے والے مہاجرین کے حوالے سے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔

ترکی میں رہنے والے شامی مہاجرین کے لیے شمالی شام میں ایک سیف زون کے قیام کے ترک مطالبے کو دہراتے ہوئے صدر ایردوان نے گھروں کی تعمیرات کے لیے مالی اور لاجسٹک مدد کا مطالبہ کیا کہ جو شامی مہاجرین کو شمالی شام میں رہائشی سہولیات دے گی۔

شامی مہاجرین کے علاوہ ترکی افغانستان کے تارکین وطن کی بھی میزبانی کر رہا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ مہاجرین کے بوجھ پر ترکی کو دنیا خاص طور پر یورپی یونین سے کافی مدد نہیں مل رہی۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ شامی مہاجرین کا بوجھ اٹھانے کے لیے ترکی کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی کو مناسب سپورٹ نہ ملی تو وہ اپنی سرحدیں کھول دینے پر مجبور ہو جائے گا۔

"جو سیف زون ہم چاہتے ہیں اور جو سیف زون ہم سے گفتگو کرنے والوں کے ذہن میں ہے، ان دونوں میں بہت فرق ہے”

ادلب میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کی وجہ سے مہاجرین کی آمد کی نئی ممکنہ لہر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی روس کے قریبی تعاون سے ادلب کی حفاظت کو یقینی بنانے اور لوگوں کا وہاں اپنے گھروں میں رہنا ممکن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترکی میں رہنے والے بیشتر شامی مہاجرین کا تعلق دریائے فرات کے مشرق سے عراق کی سرحد تک پھیلے ہوئے علاقے سے ہے کہ جہاں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اس معاملے پر امریکا کے ساتھ اتفاق رائے کے لیے کام کر رہا ہے۔

ان معاملات پر ترکی کو محتاط ہونے پر مجبور کرنے والے ماضی کے تجربات پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ جو سیف زون ہم چاہتے ہیں اور جو سیف زون ہم سے گفتگو کرنے والوں کے ذہن میں ہے، ان دونوں میں بہت فرق ہے۔۔ ادلب سے لاکھوں نئے مہاجرین کے خطرے کا سامنا کرتا ہوا ترکی اب دریائے فرات کے مشرقی علاقوں کی صورت حال پر خاموش تماشائی نہیں بنا رہ سکتا۔ جیسا کہ میں نے حال ہی میں کہا تھا کہ ہم ستمبر کے آخری ہفتے تک دریائے فرات کے مشرق میں ایک سیف زون کے اسی طرح مؤثر قیام کے لیے پرعزم ہیں کہ جیسا ہم بنانا چاہتے ہیں۔ اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ مل کر ایسا کرنا ہم سب کے لیے بہترین طریقہ ہے؛ پھر بھی اگر اس کے لیے بنیادی کام نہیں کیا گیا تو ہم اپنی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور اپنا کام اپنے طریقوں سے کرنا شروع کردیں گے۔”

تبصرے
Loading...