مراکش میں ہونے والے لیبیا مذاکرات پر ترکی کی کڑی نظر ہے، وزارتِ خارجہ

0 153

ترک وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس کی نظریں مراکش میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں۔ ساتھ ہی لیبیا بحران کے حل کے لیے مراکش کے "تعمیری ذہن” کو سراہا ہے۔

ترجمان حامی آق صوئے نے کہا کہ ترکی ابتداء ہی سے سیاسی عمل کا حامل ہے جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہو اور لیبیا کے عوام اسے قبول کریں۔ ہم مراکش کے شہر بوزنیقہ میں ہونے والے لیبیا مذاکرات کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ مراکش نے 2015ء میں ہونے والے لیبیا سیاسی معاہدے کے مذاکرات کی بھی میزبانی کی تھی کہ جس کی توثیق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2259 نے کی تھی۔ ترکی نے ان مذاکرات کی حمایت کی تھی اور وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو معاہدے پر دستخط کے لیے ذاتی طور پر شریک ہوئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم لیبیا میں بحران کے حل کے لیے مراکش کے تعمیری ذہن کو سراہتے ہیں۔

لیبیا میں متحارب فریقین اتوار کو بوزنیقہ میں ملے جبکہ اسی دن صدر رجب طیب ایردوان اور دورے پر آئے لیبیا کے وزیر اعظم فیض سراج کے مابین استانبول میں ملاقات ہوئی جس میں لیبیا میں ہونے والی پیش رفت، دو طرفہ تعلقات اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔

لیبیا کی گورنمنٹ آف نیشنل ایکرڈ (GNA) کا قیام 2015ء میں اقوامِ متحدہ کے تحت ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس حکومت کو باغی جنگجو خلیفہ حفتر کی جانب سے حملوں کا سامنا ہے۔ حالیہ چند مہینوں میں البتہ حالات حکومت کے حق میں اور حفتر کے خلاف ہو گئے ہیں۔

ترکی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اس لیبیائی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت طرابلس ہے اور اس بحران کا غیر عسکری حل چاہتا ہے۔

تبصرے
Loading...