ترکی کی کابل میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت

0 834

کابل میں ہونے والے بم دھماکوں کے تناظر میں ترکی کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم اس گھناؤنے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔”

وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا کہ "کابل میں آج کے حملوں کے بعد جانی نقصان پر بہت دکھ ہوا ہے۔” انہوں نے مزید لکھا کہ "ہم اس گھناؤنے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔”

افغانستان کے کابل حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک ہی دن دو بم دھماکوں میں کم از کم 70 افراد ہلاک اور 150 دیگر زخمی ہوئے۔ 

پینٹاگون نے تصدیق کی کہ کابل ایئرپورٹ کے قریب دو الگ الگ دھماکے ہوئے، ایک دھماکہ ایبی گیٹ پر ہوا اور دوسرا دھماکا قریبی بیرن ہوٹل کو ہوا۔

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے کہا۔ "ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ ایبی گیٹ پر دھماکہ ایک پیچیدہ حملے کا نتیجہ تھا جس کے نتیجے میں متعدد امریکی اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ہم ایبی سے تھوڑے فاصلے پر بیرن ہوٹل میں یا اس کے قریب کم از کم ایک دوسرے دھماکے کی تصدیق بھی کر سکتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر مزید اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔”

بعد میں ذرائع نے عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ دھماکوں میں کم از کم چار امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، جن کی تعداد اب بڑھ کر سات (7) ہو چکی ہے۔

کربی نے ایک علیحدہ بیان میں کہا کہ ہمارے فوجی زخمی ہوئے اور "متعدد افغان” بھی متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے ایک اور بیان میں کہا کہ اس حملے میں امریکی سروس کے متعدد ارکان نشانہ بنے ہیں تاہم اس کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

تبصرے
Loading...