کابل ائیرپورٹ سیکیورٹی: ناٹو متفق ہے تاہم امریکہ سے کچھ مسائل پر بات چیت جاری ہیں، حلوصی آکار

0 1,488

ترک وزیر دفاع حلوصی آکار نے منگل کے روز بتایا ہے کہ ترکی نے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ افغانستان کے کابل ہوائی اڈے کو محفوظ بنانے اور چلانے کے لئے بات چیت جاری رکھی ہوئی ہے۔

انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ، آکار نے کہا: "کچھ ایسے مسائل ہیں جن پر ہم نے (امریکی دفاع وزیر سیکرٹری لیلوڈ) مسٹر آسٹن سے بات چیت جزوی طور پر اتفاق کیا ہے۔ مزید یہ کہ ترکی کی نیٹو کے ساتھ مثبت پیشرفت رہی ہے”۔

وزیر دفاع میں مزید کہا کہ ائیرپورٹ پر موجود امریکہ کے تیکنیکی عملے سے بھی مثبت انداز میں بات چیت جاری ہے۔

یہ واضع کرتے ہوئے کہ اس مسئلہ کے مختلف پہلو ہیں، آکار نے کہا، ” دیگر کئی ممالک بھی افغانستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سارے عمل کو اپنے افغان بھائیوں، ناٹو، یورپی یونین اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر پایا تکمیل کر پہنچائیں گے”۔

انہوں نے یہ بھی واضع کیا کہ ترکی افغانستان میں گذشتہ 20 سالوں سے موجود ہے اور وہ وہاں پر جنگی مشن کی بجائے مصالحتی کوششوں، تعمیر نو اور بحالی میں شریک رہا ہے اور گذشتہ چھ سالوں سے کابل ائیرپورٹ پر موجود ہے۔

آکار نے کہا کہ دنیا کے اکثریتی ممالک کے مابین یہ اتفاق ہے کہ حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو کھلا اور آپریشنل رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے برعکس موجودہ منظرنامے میں، مختلف ممالک محفوظ مواصلات اور سفر کی کمی کے پیش نظر اپنے سفارت خانوں کو واپس بلا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے افغانستان ایک الگ تھلگ ریاست بن جائے گا۔

حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کے عہدیداروں کا ایک وفد انقرہ پہنچا تھا تاکہ کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو آپریشنل رکھنے کی کوششوں پر پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ ترک وزیر دفاع کے مطابق دونوں اطراف نے اس معاملے پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

ترک وزیر دفاع حلوصی آکار نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ترکی طالبان کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور ترکی کی طرف افغانوں کی نقل مکانی کے امکانات کو بھی دیکھ رہا ہے۔

تبصرے
Loading...