مشرقی بحیرۂ روم کے حوالے سے بیان دینے پر ترکی کی آرمینیا پر سخت تنقید

0 242

ترک وزارتِ خارجہ نے مشرقی بحیرۂ روم کے حوالے سے آرمینیا کے تبصرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ حامی آق صوئے نے کہا کہ "ہمارے خیال میں آرمینیا عالمی جغرافیے اور اس جغرافیے میں اپنے مقام کے حوالے سے ایک بنیادی غلطی کر رہا ہے۔ یہ معاملہ جھیل سیوان کا نہیں ہے، بلکہ یہ مشرقی بحیرۂ روم ہے۔” واضح رہے کہ آرمینیا چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ہوا ہے اور اس کی بحیرۂ روم سمیت کسی بھی سمندر سے سرحد نہیں ملتی۔

آق صوئے نے مزید کہا کہ معاہدۂ سیورے کے حوالے سے اشتعال انگیز بیان کے بعد اب آرمینیا کے مشرقی بحیرۂ روم پر بھی رائے دینا "غیر ذمہ داری اور اپنی حدوں سے آگے بڑھنے کی نئی مثال ہے۔”

آق صوئے نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی کے خلاف ایک مکارانہ اتحاد موجود ہے اور متحدہ عرب امارات اور فرانس کے بعد ایک خشکی سے گھرا ہوا ملک آرمینیا بھی سمجھتا ہے کہ اسے خطے کے معاملات پر بولنے کا حق ہے۔ "کچھ بھی ہو جائے، ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے اور ترک قبرص کے حقوق کا تحفظ کرتا رہے گا۔ کوئی شیطانی اتحاد اس کو روک نہیں سکتا۔ جو ایسا نہیں سمجھتے، انہیں تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔”

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ترکی ہر معاملے میں اپنے برادر ملک آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے۔

آرمینیا کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کو ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ بحیرۂ ایجیئن اور مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی پیش رفت کو غور سے دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے یونان اور یونانی قبرص کی اپنی غیر مشروط حمایت کا یقین دلایا اور ترکی پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو کم کرے، بین الاقوامی قوانین کی پیروی کرے اور یونان اور یونانی قبرص کے خصوصی اقتصادی زونز میں تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیاں بند کرے۔

خطے میں کشیدگی کا آغاز یونان کی جانب سے مصر کے ساتھ کیے گئے ایک متنازع بحری معاہدے کے ساتھ ہوا ہے۔ یونانی افواج نے جمعرات کو مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی بحری حدود کے قریب فرانس کے ساتھ جنگی مشقوں کا بھی اعلان کیا تھا۔

ترکی نے مصر-یونان معاہدے کے فوراً بعد علاقے میں قدرتی وسائل کی تلاش کی سرگرمیاں 10 اگست سے دوبارہ شروع کر دی ہیں ، کیونکہ وہ اس معاہدے کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔ انقرہ نے مذاکرات کے لیے علاقے میں اپنی سرگرمیاں معطل کی تھی، لیکن ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

تبصرے
Loading...