‏”ترکی یورپی یونین کا سرحدی محافظ یا مہاجر کیمپ نہیں،” آسٹریا کے بیان پر ترکی کی کڑی تنقید

0 783

ترکی نے آسٹریا کے رہنما سباستیان کرز کے اِس تبصرے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ افغان مہاجرین کے لیے "ترکی موزوں مقام ہے۔”

ترک وزارتِ خارجہ نے اس بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پہلی بات تو یہ ہے کہ ترکی افغانستان کا پڑوسی ملک نہیں ہے۔ پوری دنیا کو متاثر کرنے والے مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مل جل کر کوششیں کرنے اور باہمی تعاون کے بجائے اِس طرح کا رویہ کہ مہاجرین کو یہاں نہیں آنا چاہیے، کسی دوسرے ملک جانا چاہیے، انتہائی خود غرضانہ اور لا حاصل ہے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی مہاجرین کی نئی لہر کو قبول نہیں کرے گا، بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ہر موقع اور ہر سطح پر یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ "ترکی یورپی یونین کا سرحدی محافظ یا مہاجر کیمپ نہیں بنے گا۔”

ایک انٹرویو میں جرمن اخبار کو دیے گئے آسٹرین چانسلر کرز نے کہا تھا کہ جرمنی، آسٹریا یا سوئیڈن کے مقابلے میں ترکی افغان مہاجرین کے لیے "زیادہ موزوں مقام ہے۔”

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان کی کار روائیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور وہ ملک کے کئی حصوں پر قابض ہو چکے ہیں جس کے بعد ملک سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔

تبصرے
Loading...