امریکا کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی پر ترکی بہت مضطرب ہے، صدر ایردوان

0 689

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے کوآرڈی نیٹر برائے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ بریٹ میک گرک PKK دہشت گرد تنظیم کی شامی شاخ YPG کے تقریباً مینیجر بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں کے ساتھ امریکا کا یہ قریبی تعاون ترکی کے لیے بہت تشویش ناک بات ہے۔

سوچی سے واپسی کے بعد کہ جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمر پوتن سے ملاقات کی تھی، صدر ایردوان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میک گرک دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور PKK/YPG/PYD کے "مینیجر” کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

"میرے لیے یہ بہت پریشان کُن بات ہے کہ یہ شخص اس علاقے میں جہاں ہم دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، وہاں اُن کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔”

امریکا کی جانب سے YPG/PKK دہشت گردوں کی حمایت کا معاملہ انقرہ اور واشنگٹن کے تعلقات کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔

ترکی عراق کے ساتھ مل کر PKK کے خلاف مشترکہ آپریشن کر سکتا ہے، صدر ایردوان

وزیر دفاع خلوصی آقار نے کہا ہے کہ یہ معاملہ ترکی-امریکا تعلقات میں سب سے بڑا چیلنج ہے جبکہ صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے ترکی کی قومی سالمیت کے خدشات کی پروا نہ کرنے پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکا، ترکی اور یورپی یونین کی جانب سے PKK دہشت گرد تنظیم سمجھی جاتی ہے اور واشنگٹن کی جانب سے اس کی شامی شاخ کا ساتھ دینا انقرہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ ہے۔

امریکا نے داعش کے خلاف لڑائی میں شمال مشرقی شام میں YPG کا ساتھ دیا تھا۔ دوسری جانب ترکی شمالی شام میں YPG کی موجودگی کا سخت مخالف تھا۔ انقرہ طویل عرصے سے امریکا کی جانب سے YPG کی حمایت پر اعتراض کرتا آ رہا ہے کیونکہ یہ ایسا گروپ ہے جو ترکی کے لیے خطرہ ہے اور مقامی افراد کو دہشت زدہ کرتا، ان کے گھروں کو تباہ کرتا اور انہیں بے گھر کرتا ہے۔

داعش کے خلاف لڑائی کے نام پر امریکا نے YPG کو فوجی تربیت اور بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا ہے، باوجود اس کے کہ نیٹو اتحادی ترکی اس پر خدشات ظاہر کرتا آ رہا ہے۔ اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ایک دہشت گرد کو شکست دینے کے لیے دوسرے دہشت گرد کی حمایت نہیں کی جا سکتی، ترکی نے اپنے انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کا آغاز کیا اور علاقے سے دہشت گردوں کا بڑے پیمانے پر صفایا کیا۔

ترکی ‏YPG کے لیے مسلسل امریکی حمایت پر خاموش نہیں رہے گا، صدر ایردوان

آئندہ جی-20 اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ شام کے معاملے پر امریکی مؤقف پر بات کی جائے گی اور ترکی کے خدشات سامنے رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایف-35 طیاروں کے معاملے پر بھی بات کریں گے جن کی خریداری کے لیے ترکی 1.4 ارب ڈالرز ادا کر چکا ہے، لیکن امریکا فروخت کرنے سے انکاری ہے۔ صدر نے کہا کہ "یا تو وہ ہمیں ہمارے جہاز دیں یا ہمارے پیسے واپس کریں۔”

طیب ایردوان روم میں صدر بائیڈن سے ملاقات کریں گے اور ممکنہ طور پر بعد میں گلاسگو میں بھی ان کے ساتھ ملاقات ہوگی۔

صدر ایردوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ صدر بائیڈن کے پیش رو حکمرانوں کے ساتھ بخوبی معاملات چلاتے رہے، لیکن بائیڈن کے معاملے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔

صدر پوتن کے ساتھ ملاقات کو "سیر حاصل” قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ اس میں علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں شام، نگورنو قراباخ اور افغانستان شامل ہیں۔ صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے بات چیت کی کہ شامی بحران کا مستقل، حتمی اور پائدار حل اب تک نکل جانا چاہیے تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے دونوں ممالک کے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور پوتن کو بتایا کہ ترکی اس ضمن میں تمام حقیقت پسندانہ اور منصفانہ اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

ممکنہ زمینی آپریشن، ترکی نے مزید فوجی شام بھیج دیے

صدر ایردوان نے کہا کہ چند معاملات پر دونوں رہنماؤں کی رائے مختلف تھی، لیکن بیشتر امور پر اتفاق پایا گیا، جو ایک اچھی خبر ہے۔

انہوں نے روسی ہم منصب کو ترکی کے دورے کی دعوت دی، جس کا پوتن نے خیر مقدم کیا اور رواں سال کے اختتام سے پہلے ترکی میں اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل کے اگلے اجلاس کے انعقاد پر رضامندی ظاہر کی۔

صدر ایردوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی روسی ساختہ ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور کہا کہ اس حوالے سے تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ نگورنو قراباخ والے معاملے پر صدر ایردوان نے کہا کہ پوتن ایک چھ ملکی پلیٹ فارم بنانے کے لیے تیار ہیں۔

صدر ایردوان نے بارہا چھ ملکی پلیٹ فارم بنانے کا مطالبہ کیا ہے جو ترکی، روس، ایران، آذربائیجان، جارجیا اور آرمینیا پر مشتمل ہو تاکہ خطے میں پائدار امن و استحکام لایا جائے اور تعاون کی فضا کو پروان چڑھایا جائے۔

افغانستان میں تازہ ترین صورت حال کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اس وقت کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے معاملات میں شامل نہیں ہے لیکن مستقبل میں ایسا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی طالبان کے ساتھ ہر قسم کے اور ہر سطح کے مذاکرات کر سکتا ہے، اگر وہ تعاون کریں۔ ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

تبصرے
Loading...