ترکی نے عالمی وباء کے دوران 80 ممالک کو طبّی امداد فراہم کی

0 283

ترکی کے نائب صدر فواد اوقتائی نے کہا ہے کہ ترکی نے کروناوائرس کی عالمی وباء کے خلاف عالمی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے 80 ممالک کو امداد فراہم کی ہے۔

ایک آن لائن انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ "ہمیں ایسے 80 ممالک کی مدد کرنے کا موقع ملا کہ جو اب تک ہم سے مدد طلب کر چکے ہیں۔”

فواد اوقتائی نے کہا کہ ان ممالک کی بنیادی طلب فیس ماسک، دستانے اور رسپائریٹرز تھیں۔ دنیا کے دو تہائی ممالک، یعنی تقریباً 70 فیصد ترکی سے مدد کی درخواست کر چکے ہیں۔ حال ہی میں ترکی کی طبّی امداد کا دوسرا حصہ لبییا پہنچا ہے تاکہ وہ کروناوائرس کے خلاف جنگ لڑ سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق طرابلس کے لیے ترکی کے سفیر نے بذات خود یہ طبّی امداد لیبیا کی وزارتِ صحت تک پہنچائیں۔

انقرہ نے تونس کے لیے بھی اپنی طبّی امداد کا دوسرا حصہ بھیجا ہے، جس میں سرجیکل ماسکس، حفاظتی لباس، جراثیم کش، چشمے، فیس ماسکس اور فیس شیلڈز شامل ہیں۔

ترکی یوگینڈا کی COVID-19 نیشنل ٹاسک فورس کو 100 سائیکلیں بھی عطیہ کر چکا ہے تاکہ طبی عملہ کے لیے ان وبائی حالات کے دوران نقل و حرکت آسان ہو۔ یوگینڈا میں اس وقت 160 کنفرم کیسز موجود ہیں اور اب تک کروناوائرس سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے۔

گزشتہ دسمبر میں چین سے نکلنے والا یہ وائرس اب تک 188 ممالک تک پھیل چکا ہے۔ یورپ اور امریکا اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک دنیا بھر میں 3 لاکھ سے زیادہ افراد کروناوائرس کی وجہ سے موت کا شکار ہوئے ہیں جبکہ 44 لاکھ تصدیق شدہ مریض اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ ترکی میں مریضوں کی تعداد 1,44,749 ہے اور ہلاکتیں 4,007 ہیں۔

ترکی مشکلات سے دوچار ممالک کی مدد کرنے کی طویل روایت رکھتا ہے۔ مثلاً 1938ء میں جب ترکی خود ایک خونریز جنگ کے بعد برے حالات سے دوچار تھا، لیکن اس نے مشرقِ بعید میں ہیضے کی وباء کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے چین کی مدد کی تھی۔ اسی طرح 1941ء میں یونان کی مدد پر یونانی افواج کے لیے ادویات ارسال کی تھیں، حالانکہ یونان ترکی کے ساتھ کئی جنگ لڑ چکا ہے۔ اسی طرح ایتھوپیا، بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے ملکوں کی بھی مختلف مواقع پر مدد کی ہے۔

تبصرے
Loading...